کھیل

محمد رضوان کا این سی سی آئی اے کو تیسرا خط، مزید وضاحتیں طلب کرلیں

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - محمد رضوان کا این سی سی آئی اے کو تیسرا خط، مزید وضاحتیں طلب کرلیں
یہ بھی پڑھیں: ایشین گیمز 2026: گولڈ میڈل کے لیے پاکستان اور بھارت آمنے سامنے، میدان میں ہوگا ہائی وولٹیج مقابلہ

قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے اپنے خلاف جاری انکوائری کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو تیسرا خط لکھ دیا ہے۔

محمد رضوان نے خط میں این سی سی آئی اے کے سامنے 2 اکتوبر کو پیش ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نوٹس موصول ہوگیا ہے اور وہ مقررہ تاریخ کو انکوائری میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔

رضوان نے اپنے خط میں انکوائری کے دائرہ کار اور الزامات سے متعلق مزید وضاحت طلب کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے نوٹس میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کے الزامات کا ذکر کیا گیا تھا، جبکہ عدالت میں ایجنسی کی جانب سے PECA 2016 کے تحت الیکٹرانک فراڈ کی دفعہ کا بھی حوالہ دیا گیا۔

قومی کرکٹر کے مطابق نئے نوٹس میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کے الزامات کا ذکر موجود نہیں، جس کے باعث انکوائری کی نوعیت واضح نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا تحقیقات اب بھی آن لائن بیٹنگ یا جوئے کے معاملے سے متعلق ہیں اور PECA 2016 کی کون سی مخصوص دفعات انکوائری کا حصہ ہیں۔

رضوان نے یہ بھی درخواست کی کہ اگر پہلے نوٹس کے بعد انکوائری کا دائرہ کار تبدیل کیا گیا ہے تو انہیں موجودہ دائرہ کار سے تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔

خط میں محمد رضوان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آن لائن بیٹنگ اور جوئے کے الزامات ان کے کرکٹ کیریئر اور ساکھ سے متعلق معاملے سے جڑ گئے ہیں، تو کیا اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB)، آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ یا کسی دوسرے متعلقہ کرکٹ ادارے کو آگاہ کیا گیا ہے۔

محمد رضوان نے اپنے موبائل فون کے حوالے سے بھی وضاحت طلب کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا موبائل این سی سی آئی اے کے پاس ہے اور اس کا پاس ورڈ انگلینڈ میں ہی ان کی پہلی پیشی کے موقع پر فراہم کیا گیا تھا۔

رضوان کے مطابق ان کی موجودگی میں موبائل فون کو دوبارہ کھولا اور چیک کیا گیا، تاہم انہیں موبائل ضبط کرنے کی رسید، وارنٹ، کسٹڈی ریکارڈ یا اسے مسلسل اپنے پاس رکھنے سے متعلق کوئی تحریری دستاویز فراہم نہیں کی گئی۔

انہوں نے این سی سی آئی اے سے پوچھا کہ فرانزک معائنے کے سلسلے میں انہیں ذاتی طور پر مزید کس تعاون کی ضرورت ہے۔ رضوان نے مطالبہ کیا کہ فرانزک معائنہ بلا تاخیر مکمل کیا جائے اور ان کا موبائل فون واپس کیا جائے۔

قومی کرکٹر نے کہا کہ انہیں اب تک واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ دراصل ان پر الزام کیا ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ وہ کسی بھی قانونی انکوائری کے ساتھ مکمل تعاون اور معاونت کے لیے تیار ہیں۔