متحدہ عرب امارات میں فلائی دبئی کی پرواز کے دوران مبینہ طور پر کپتان پر حملہ کرکے طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کرنے والے شریک پائلٹ کے خلاف سخت ترین کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اس کیس میں شریک پائلٹ کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اسرائیلی خبر رساں ادارے Ynet کی رپورٹ کے حوالے سے The Times of Israel نے بتایا کہ ایک اعلیٰ اماراتی ذریعے کے مطابق حکام ملزم کے لیے ممکنہ طور پر سزائے موت سمیت انتہائی سخت سزا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ابھی کسی عدالت کی جانب سے سزائے موت کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا اور معاملہ تفتیش کے مرحلے میں ہے۔
یہ واقعہ 30 ستمبر 2026 کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں پیش آیا، جو دبئی سے اسرائیل کے تل ابیب جانے والی تھی۔ پرواز میں 182 افراد سوار تھے۔
رپورٹس کے مطابق دورانِ پرواز شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کے کنٹرول پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے بعد میں واقعے کو مبینہ طور پر ایک دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں موجود ایمرجنسی ایکس سے کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔
حملے کے بعد طیارے کو ہنگامی صورتحال میں سعودی عرب کے شہر تبوک میں اتارا گیا۔ مسافروں اور عملے کے دیگر افراد نے کاک پٹ میں داخل ہو کر حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد کی، جبکہ دوسرے پائلٹس نے طیارے کو بحفاظت اتارنے میں کردار ادا کیا۔
تحقیقات سے واقف ذرائع کے مطابق ملزم کی شناخت حمام الحَمّامی کے نام سے ہوئی ہے، جو عمانی شہری بتایا جاتا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے AP کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ اسے اس سے قبل عمان ایئر میں پرواز کرنے سے روکا گیا تھا اور اس کے بارے میں انتہا پسندانہ خیالات سے متعلق خدشات سامنے آئے تھے۔ بعد ازاں وہ فلائی دبئی سے منسلک ہوا۔
تاہم اس کیس کے محرکات اور پس منظر کے حوالے سے تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہیں۔ اماراتی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ تفتیش میں واقعے کے حالات، محرکات، ممکنہ روابط اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
فی الحال اسے حتمی عدالتی فیصلہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
اسرائیلی میڈیا کی حالیہ رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات ملزم کے خلاف سخت ترین سزا چاہتا ہے اور سزائے موت بھی ممکنہ سزا کے طور پر زیرِ غور ہے۔ لیکن دستیاب معلومات کے مطابق ابھی تحقیقات جاری ہیں اور عدالت کی جانب سے حتمی سزا سنائے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اماراتی پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام ضروری کارروائیوں کے نتیجے کا اعلان کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس حکام بھی متحدہ عرب امارات میں ہونے والی تحقیقات میں معاونت کر رہے ہیں۔ CBS کے مطابق ابتدائی اسرائیلی تحقیقات میں اس واقعے کو ممکنہ طور پر ایک اکیلے شخص کی کارروائی سمجھا جا رہا ہے، تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور تمام امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
فلائی دبئی واقعے نے عالمی سطح پر ایوی ایشن سیکیورٹی کے حوالے سے بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں، خصوصاً اس بات پر کہ ایک ایسے شخص کو، جس کے بارے میں ماضی میں سیکیورٹی خدشات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں، کمرشل پرواز کے کاک پٹ تک رسائی کیسے ملی۔
اہم بات یہ ہے کہ “سزائے موت دینے کا فیصلہ ہو گیا” کے بجائے موجودہ معلومات کی بنیاد پر زیادہ درست الفاظ یہ ہیں کہ اماراتی حکام مبینہ طور پر ملزم کے خلاف سخت ترین ممکنہ سزا، بشمول سزائے موت، پر غور کر رہے ہیں جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔





