لاہور: ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ بیرون ملک جانے کے لیے غیر قانونی راستے اختیار کرنے والے افراد نے اپنے طریقہ کار میں تبدیلی کرلی ہے اور اب یورپ پہنچنے کے لیے فضائی راستوں کے ذریعے سفر کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان بہتر مستقبل اور روزگار کے مواقع کی تلاش میں بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں، تاہم یورپ میں بھی اب حالات پہلے جیسے بہتر نہیں رہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے افراد نے اپنے روایتی راستے تبدیل کرلیے ہیں۔ ان کے مطابق اب ایسے افراد زمینی راستوں کے ساتھ ساتھ فضائی راستوں کو بھی استعمال کرتے ہوئے یورپ جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے ادارہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے افراد اور ان سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جو انہیں غیر قانونی سفر کے لیے مدد فراہم کرتے ہیں۔
ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کا تیسرا مرحلہ بھی جاری ہے۔ اس حوالے سے ایف آئی اے سمیت متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واپسی کے عمل کے دوران قانونی تقاضوں اور متعلقہ حکومتی پالیسی کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔
ڈی جی ایف آئی اے نے ادارے کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کو وسائل اور افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی بھرتیوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد ادارے کی افرادی قوت میں اضافہ ہوگا، جس سے کام کے دباؤ اور دیگر کئی مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق ایف آئی اے کو اپنے فرائض مؤثر انداز میں انجام دینے کے لیے اضافی وسائل اور افرادی قوت کی ضرورت ہے، جبکہ نئی بھرتیوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
ڈی جی ایف آئی اے کے بیان میں غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے نوجوانوں کے لیے بھی اہم پیغام موجود ہے۔ بہتر مستقبل کی خواہش میں غیر قانونی راستہ اختیار کرنا نہ صرف قانونی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے بلکہ ایسے سفر میں انسانی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
حکام کی جانب سے شہریوں کو قانونی ذرائع سے بیرون ملک سفر اور روزگار کے مواقع تلاش کرنے پر زور دیا جاتا رہا ہے، جبکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی بھی جاری ہے۔
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق غیر قانونی ہجرت کے طریقوں میں تبدیلی کے باعث متعلقہ اداروں کے لیے بھی چیلنجز تبدیل ہو رہے ہیں، تاہم ایف آئی اے ان معاملات کی روک تھام کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔





