اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ضلع لکی مروت سے شروع کیا جانے والا لانگ مارچ اتوار کی شب کرک پہنچ گیا، جبکہ دونوں فریق مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرتے ہوئے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا آغاز اتوار کی دوپہر ایسے وقت میں کیا جب جمعہ اور ہفتے کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات کے دو ادوار کسی حتمی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے تھے۔
حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دے رہے ہیں
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ ہفتے کی شب ہونے والے مذاکرات میں 99 فیصد معاملات طے پا چکے تھے، تاہم ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کیا۔
دوسری جانب تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ مذاکرات میں بنیادی اختلافات برقرار رہے۔ پارٹی کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی کا مطالبہ تسلیم نہ کیے جانے اور خیبرپختونخوا میں شدت پسندی سے نمٹنے کے حوالے سے حکومت کے مطالبات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔
یوں دونوں جانب سے مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات بیان کی جا رہی ہیں اور سیاسی بحران کے حل کے لیے اب اگلے اقدامات پر توجہ مرکوز ہے۔
پی ٹی آئی کے پاس کیا آپشنز ہیں؟
مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد تحریک انصاف کے سامنے سب سے نمایاں راستہ احتجاجی تحریک کو مزید آگے بڑھانا ہے۔ لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اسی سیاسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ کے ذریعے حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے مطالبات کو عوام اور سیاسی حلقوں کے سامنے اجاگر کرسکتی ہے۔
دوسرا راستہ دوبارہ مذاکرات کی کوشش ہوسکتا ہے۔ اگر دونوں فریق اپنے مؤقف میں لچک پیدا کریں تو مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہونے کی گنجائش موجود رہ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ تحریک انصاف پارلیمانی اور قانونی ذرائع سے بھی اپنے مطالبات کے لیے جدوجہد جاری رکھ سکتی ہے۔
حکومت کے پاس کیا راستے موجود ہیں؟
حکومت کے لیے ایک اہم آپشن احتجاجی سرگرمیوں کے دوران امن و امان برقرار رکھنا اور سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا ہے۔
حکومت دوبارہ مذاکرات کی پیشکش بھی کرسکتی ہے تاکہ سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کے ساتھ حکومت کے اتحادی جماعتوں کے ذریعے بھی سیاسی رابطوں کو آگے بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔
حکومت کے لیے ایک اور اہم چیلنج یہ ہوگا کہ احتجاج کے دوران معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں اور امن و امان کی صورتحال قابو میں رہے۔
مذاکراتی عمل کی اہمیت
موجودہ صورتحال میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی سیاسی کشیدگی کم کرنے کا ایک راستہ ہوسکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے دونوں جانب سے اپنے مطالبات پر دوبارہ غور اور قابلِ قبول نکات پر اتفاق ضروری ہوگا۔
فی الحال پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری ہے جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ سیاسی دباؤ، احتجاج اور مذاکرات میں سے کون سا راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور آیا دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں یا نہیں۔
مذاکرات میں کون کون شریک تھا؟
مذاکرات میں حکومت اور اس کے اتحادی وفد کی نمائندگی رانا ثنا اللہ، محسن نقوی، امیر مقام، طلال چوہدری، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی نے کی۔
اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجا اور حلیم عادل شیخ مذاکراتی عمل میں شریک تھے۔
مذاکراتی عمل کے اختتام پر اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد اب دونوں فریق اپنے اپنے سیاسی لائحہ عمل کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ لانگ مارچ کی پیش رفت نے صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔





