پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح-4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کے ایکسٹینڈڈ ورژن کا کامیاب تجربہ کرلیا، نئے ورژن میں اہم نظاموں کی بہتری کی تصدیق ہوگئی۔
پاکستان نے 6 اکتوبر 2026 کو مقامی طور پر تیار کیے گئے فتح-4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کے ایکسٹینڈڈ ورژن کا کامیاب تجربہ کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نئے ورژن میں جدید ایویونکس اور جدید نیوی گیشنل نظام شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایکسٹینڈڈ ورژن کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ تجربے کے دوران مختلف ذیلی نظاموں کے اضافی تکنیکی پیرامیٹرز کی بھی توثیق کی گئی۔
ان تبدیلیوں کا مقصد میزائل کی درستگی اور مجموعی بقا کی صلاحیت میں بہتری لانا ہے۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ آئی ایس پی آر نے نئے ایکسٹینڈڈ ورژن کی مخصوص رینج کا کوئی نیا عدد جاری نہیں کیا۔
پہلے فتح-4 کی رینج کتنی تھی؟
ستمبر 2025 میں کیے گئے فتح-4 کے پہلے اعلان کردہ تجربے کے موقع پر اس کی رینج 750 کلومیٹر بتائی گئی تھی۔ موجودہ ایکسٹینڈڈ ورژن کے بارے میں سرکاری بیان میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ یہ زیادہ فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تجربے میں کیا چیز خاص تھی؟
تجربے کے دوران نئے یا بہتر کیے گئے مختلف ذیلی نظاموں کے تکنیکی پیرامیٹرز کو جانچا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان کا مقصد درستگی اور نظام کی بقا کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔
تجربے کا مشاہدہ پاک فوج کے سینئر افسران کے علاوہ میزائل تیار کرنے والے ادارے کے سائنس دانوں اور انجینئرز نے کیا۔
صدر مملکت، وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف اور تینوں سروسز چیفس نے کامیاب تجربے پر سائنس دانوں، انجینئرز اور متعلقہ افراد کو مبارک باد دی۔
یعنی فتح-4 کے نئے ایکسٹینڈڈ ورژن کی سب سے نمایاں بات اس کی بہتر اور زیادہ فاصلے تک رسائی کی صلاحیت ہے، جبکہ اس کی نئی مخصوص رینج سمیت کئی تفصیلات ابھی سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔





