پاکستان

رانا ثناء اللہ کا پی ٹی آئی کو واضح پیغام، لانگ مارچ ختم کریں تو مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں

رانا ثناء اللہ کا پی ٹی آئی کو واضح پیغام، لانگ مارچ ختم کریں تو مذاکرات کے دروازے کھلے
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - رانا ثناء اللہ کا پی ٹی آئی کو واضح پیغام، لانگ مارچ ختم کریں تو مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی وطن واپسی تک جماعت اسلامی کا لانگ مارچ مؤخر

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اب بھی موجود ہے، تاہم تحریک انصاف کو بات چیت کے لیے اپنا لانگ مارچ ختم کرنا ہوگا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے اور اگر پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کردے تو سیاسی معاملات پر دوبارہ بات چیت ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف پالیسی اور خیبر پختونخوا حکومت کے کردار سمیت مختلف معاملات پر اختلافات پیدا ہوئے۔

رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر یہ مارچ ایک ماہ تک بھی جاری رہا تو تحریک انصاف خود تھک جائے گی۔ انہوں نے موجودہ تعداد کو اسلام آباد تک مارچ کے لیے ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ تعداد سے متعلق دعویٰ رانا ثناء اللہ کا اپنا بیان ہے، جس کی آزادانہ تصدیق حکومت کے اس بیان میں پیش نہیں کی گئی۔

حکومتی مؤقف کے مطابق مذاکرات میں ایک اہم اختلاف دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور خیبر پختونخوا حکومت کے کردار پر سامنے آیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو وفاقی انسدادِ دہشت گردی پالیسی کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے مختلف تحفظات سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی 6 اکتوبر کو کہا کہ حکومت پی ٹی آئی سے دوبارہ بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم احتجاج ختم کرنے پر زور دیا۔ ڈان کے مطابق بیرسٹر گوہر نے حکومت کی پیشکشوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب شروع ہوا تھا اور حکومت نے واضح کیا ہے کہ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی گنجائش مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، کیونکہ حکومتی شخصیات مسلسل سیاسی بات چیت کی پیشکش کا ذکر کر رہی ہیں۔