یمن میں جاری لڑائی ایک بار پھر سرحد پار اثرات دکھا رہی ہے، جہاں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 36 زخمی ہوئے۔
سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق ابہا ایئرپورٹ پر حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین جاں بحق جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے الگ حملے میں ایک سوڈانی شہری جاں بحق اور 8 افراد زخمی ہوئے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دونوں ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاض کے ایئرپورٹ پر ڈرونز جبکہ ابہا ایئرپورٹ پر میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ ان کے دیگر فوجی نقصانات سے متعلق دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
حوثی سعودی ہوائی اڈوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ یمن میں جاری فوجی تنازع ہے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا آیا ہے، جبکہ حوثی گروپ یمن کے بڑے علاقوں پر اپنا کنٹرول رکھتا ہے۔ حالیہ دنوں میں یمن کے مختلف محاذوں پر لڑائی میں دوبارہ شدت آنے کے بعد دونوں جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا اسی وسیع تر تنازع کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے حوثیوں کے میزائل لانچنگ مقامات اور دیگر فوجی تنصیبات کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔
صورتحال کا اثر صرف سعودی عرب اور یمن تک محدود نہیں رہا۔ حوثیوں نے یمن کے شہر عدن کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب بھی میزائل اور ڈرون حملہ کیا، جس کے باعث قاہرہ سے آنے والی ایک پرواز کو جدہ کی جانب موڑ دیا گیا۔ اس واقعے سے خطے میں شہری فضائی سفر کی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
حالیہ حملوں کے بعد یمن میں جاری تنازع مزید پیچیدہ ہوگیا ہے اور سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ صورتحال پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ یمن کا تنازع بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستوں کے قریب جاری ہے





