پاکستان

عطا تارڑ کا پی ٹی آئی پر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی بڑھانے کا سنگین الزام

عطا تارڑ کی پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق بیان
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - عطا تارڑ کا پی ٹی آئی پر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی بڑھانے کا سنگین الزام
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا صارفین خبردار! آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور اینٹی اسٹیٹ مواد پر این سی سی آئی اے کا کریک ڈاؤن شروع

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں اضافے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کے رہائشی علاقوں میں دہشت گردوں کو لا کر بسایا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بی ٹیم قرار دیا۔ یہ وفاقی وزیر کے سیاسی الزامات ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق اس بیان سے نہیں ہوتی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، فارنزک لیبارٹری اور پولیس کو جدید اسلحہ اور ضروری وسائل فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی، تاہم ان کے بقول یہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے صوبے میں سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے بیان میں طالبان کی خواتین سے متعلق سوچ کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایسی سوچ پورے خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ حکومت کو صوبے کی ترقی، عوامی مسائل کے حل اور امن و امان کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔

عطا تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سہیل آفریدی نے صوبے کی ترقی کے لیے بہت کم وقت صرف کیا، جبکہ تخریب کاری کے حوالے سے چھ، چھ گھنٹے طویل اجلاس کیے گئے۔ وفاقی وزیر نے ان اجلاسوں اور صوبائی حکومت کی ترجیحات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے ترقیاتی معاملات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 13 برس کے دوران خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومتوں کی کارکردگی نے صوبے کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل سے نمٹنے کے لیے جو اقدامات ہونے چاہیے تھے، وہ نہیں کیے گئے۔

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا معاملہ پاکستان کی قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات سے شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کو خطرات کا سامنا رہتا ہے، جبکہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان تعاون اہم سمجھا جاتا ہے۔

عطا تارڑ کی پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت، سیکیورٹی اداروں کی تیاری اور ترقیاتی ترجیحات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، دہشت گردی میں اضافے کی وجوہات اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں مکمل نتیجے تک پہنچنے کے لیے سیکیورٹی سے متعلق اعداد و شمار، سرکاری رپورٹس اور متعلقہ اداروں کے مؤقف کا جائزہ لینا ضروری ہے۔