پاکستان

مودی حکومت کے خلاف جین زی مظاہرین بدترین کا احتجاج جاری، دہلی میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں

جین زی احتجاج بھارت مودی حکومت کے خلاف مظاہرہ
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - مودی حکومت کے خلاف جین زی مظاہرین بدترین کا احتجاج جاری، دہلی میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں
یہ بھی پڑھیں: معدنیات کے لائسنس سے متعلق مولانا فضل الرحمان کے الزامات کی تردید، بیرسٹر عقیل ملک

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جین زی (Gen Z) کی قیادت میں احتجاج کے دوران پولیس نے متعدد مظاہرین اور سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا، جبکہ شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ احتجاج کا مرکز انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ ہے، جس پر مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) اور بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق، 10 اکتوبر 2026 کو دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے پہلے پولیس نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔ پولیس نے احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والے متعدد افراد کو حراست میں لیا، جبکہ مظاہرین کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے مختلف راستوں پر چیکنگ اور رکاوٹیں بھی قائم کی گئیں۔

جین زی

احتجاج کی وجہ بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (Special Intensive Revision) کا عمل ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور احتجاج کے منتظمین کا الزام ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اہل ووٹرز کے نام فہرستوں سے خارج ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ تاہم، انتخابی عمل میں جانبداری کے الزامات متنازع ہیں اور الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ سیاسی مداخلت کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

بھارتی یوٹیوبر دھروو راٹھی بھی اس احتجاج کے سلسلے میں پولیس کی حراست میں لیے جانے والے افراد میں شامل ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، انہیں گڑگاؤں کے سیکٹر 56 میں واقع رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ احتجاجی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے دھروو راٹھی اور دیگر کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

احتجاج کے پیش نظر دہلی میں سکیورٹی سخت کی گئی، جبکہ پولیس نے مظاہرین کو جنتر منتر تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ مجوزہ احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جبکہ احتجاج کے منتظمین نے پولیس کارروائی کو اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اس احتجاج نے بھارت میں انتخابی فہرستوں، ووٹروں کے حقوق اور حکومتی اداروں کی شفافیت سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم، احتجاج کے سیاسی اثرات اور انتخابی فہرستوں سے متعلق الزامات کی حتمی حیثیت کا انحصار متعلقہ شواہد اور سرکاری تحقیقات پر ہوگا۔