پاکستان

اقرار الحسن گرفتار؟ بڑا تہلکہ خیز انکشاف، 5 اہم تفصیلات سامنے آگئیں

اقرار الحسن کی لاہور میں مبینہ گرفتاری کی خبر
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - اقرار الحسن گرفتار؟ بڑا تہلکہ خیز انکشاف، 5 اہم تفصیلات سامنے آگئیں
یہ بھی پڑھیں: ایل پی جی کی قیمتوں میں من مانا اضافہ، کارروائی ہوئی تو 700 روپے فی کلو سے تجاوز کا خدشہ

لاہور میں پاکستان عوام راج تحریک کے رہنما اور معروف ٹی وی میزبان اقرار الحسن کو ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق، انہیں رات گئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے، تاہم حکام کی جانب سے تاحال گرفتاری کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

اقرار الحسن کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں حراست میں لیے جانے کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم کی گئیں۔ اہل خانہ کے مطابق، اس سلسلے میں این سی سی آئی اے کے متعلقہ دفتر سے بھی رابطہ کیا گیا، لیکن وہاں سے بھی تسلی بخش جواب نہیں مل سکا۔

اقرار الحسن گرفتار

اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے واقعے سے متعلق اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اہل خانہ رات کے وقت سو رہے تھے کہ باہر سے آوازیں آنے لگیں اور اقرار الحسن کو باہر لانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کے مطابق، گھر میں داخل ہونے والے افراد نے اہل خانہ کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا اور اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے۔

فرح اقرار کے دعوے کے مطابق، واقعے کے دوران موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی لے لیے گئے، جبکہ گھر سے جاتے وقت سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب انہوں نے واقعے کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو ان سے فون چھین لیا گیا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب معروف ٹی وی میزبان وسیم بادامی نے بھی اقرار الحسن کے بارے میں معلومات نہ ملنے کا ذکر کیا۔ ان کے بیان کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آگیا اور صارفین کی جانب سے اقرار الحسن کی موجودہ صورت حال سے متعلق سوالات کیے جانے لگے۔

اقرار الحسن پاکستان عوام راج تحریک کے رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ٹی وی صحافت کے شعبے میں بھی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کی مبینہ حراست کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کی جانب سے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اقرار الحسن کو کن وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا گیا، آیا ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے یا نہیں، اور انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ این سی سی آئی اے کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے آنے تک واقعے کی وجوہات اور قانونی حیثیت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

مزید خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں