لاہور میں پاکستان عوام راج تحریک کے رہنما اور معروف ٹی وی میزبان اقرار الحسن کو ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق، انہیں رات گئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے، تاہم حکام کی جانب سے تاحال گرفتاری کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
اقرار الحسن کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں حراست میں لیے جانے کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم کی گئیں۔ اہل خانہ کے مطابق، اس سلسلے میں این سی سی آئی اے کے متعلقہ دفتر سے بھی رابطہ کیا گیا، لیکن وہاں سے بھی تسلی بخش جواب نہیں مل سکا۔
اقرار الحسن گرفتار
اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے واقعے سے متعلق اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اہل خانہ رات کے وقت سو رہے تھے کہ باہر سے آوازیں آنے لگیں اور اقرار الحسن کو باہر لانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کے مطابق، گھر میں داخل ہونے والے افراد نے اہل خانہ کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا اور اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے۔
فرح اقرار کے دعوے کے مطابق، واقعے کے دوران موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی لے لیے گئے، جبکہ گھر سے جاتے وقت سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب انہوں نے واقعے کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو ان سے فون چھین لیا گیا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب معروف ٹی وی میزبان وسیم بادامی نے بھی اقرار الحسن کے بارے میں معلومات نہ ملنے کا ذکر کیا۔ ان کے بیان کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آگیا اور صارفین کی جانب سے اقرار الحسن کی موجودہ صورت حال سے متعلق سوالات کیے جانے لگے۔
اقرار الحسن پاکستان عوام راج تحریک کے رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ٹی وی صحافت کے شعبے میں بھی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کی مبینہ حراست کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کی جانب سے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔





