سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی جیل میں موجود صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق بورس جانسن نے عمران خان کی رہائی کی براہِ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس کوٹھڑی کا تالا کھولیں اور عمران خان کو آزاد کریں۔‘‘
بورس جانسن نے دعویٰ کیا کہ 73 سالہ عمران خان کو ایک چھوٹی، نم زدہ اور کیڑوں سے متاثرہ کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے، جہاں انہیں کئی کئی دن قیدِ تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق سابق وزیراعظم کو کتابوں، اخبارات، ملاقاتوں اور مناسب ورزش تک بھی محدود رسائی حاصل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی کوٹھڑی میں ہی بیت الخلا موجود ہے، جبکہ اس کی چوڑائی تقریباً 6 فٹ اور لمبائی 8 فٹ ہے اور وہاں کوئی کھڑکی بھی نہیں۔ بورس جانسن کے مطابق بعض اوقات روشنی بند کردی جاتی ہے، جس کے باعث عمران خان کو کئی کئی دن اندھیرے میں گزارنا پڑتا ہے۔
بورس جانسن نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ناقص اور تاخیر سے کیے گئے طبی علاج کے باعث عمران خان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کو ان حالات میں قید ہوئے تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔
سابق برطانوی وزیراعظم نے عمران خان کے خلاف مقدمات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خیال میں عمران خان کو جیل میں رکھنے کی اصل وجہ کرپشن نہیں بلکہ ان کی سیاسی طاقت اور عوامی مقبولیت ہے۔
بورس جانسن نے عمران خان کے شاندار کرکٹ کیریئر اور 1992 کے ورلڈ کپ کا بھی ذکر کیا اور انہیں پاکستان سمیت دنیا کے عظیم کرکٹ ہیروز میں شمار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے حوالے سے اصل خدشہ یہ ہے کہ اگر انہیں رہا کیا گیا تو وہ دوبارہ بڑی عوامی حمایت کے ساتھ انتخابی سیاست میں واپس آسکتے ہیں۔
بورس جانسن نے عمران خان کے دورِ حکومت کے بعض اقدامات کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے عمران خان کے بیٹوں، سلیمان خان اور قاسم خان، کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برطانوی پاسپورٹ رکھتے ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں اپنے والد سے جیل میں ملاقات کے لیے پاکستان آنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سابق برطانوی وزیراعظم نے عمران خان کے معاملے پر برطانوی حکومت کے ردعمل کو بھی ناکافی قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر عمران خان جیل میں ہی ہلاک ہوگئے تو یہ پاکستان کی ساکھ پر ایک سنگین داغ ہوگا۔





