پاکستانی وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کی جانب سے میڈیا سے گفتگو کی اجازت لینے کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔
ذرائع کے مطابق محمد رضوان نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے دو مرتبہ میڈیا ٹاک کرنے کی اجازت مانگی، تاہم دونوں مواقع پر انہیں اجازت نہیں دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رضوان اپنے حوالے سے سامنے آنے والے تنازع پر کھل کر بات کرنا چاہتے تھے۔ وہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد ان کا موبائل فون لیے جانے کے معاملے سمیت دیگر تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھنا چاہتے تھے۔
قریبی ذرائع کے مطابق محمد رضوان اپنے اوپر عائد کیے گئے الزامات کے بارے میں بھی وضاحت دینا چاہتے ہیں، جبکہ آئی سی سی کو بھیجے گئے خط سے متعلق اپنا مؤقف بیان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رضوان کا مؤقف تھا کہ وہ سینٹرل کنٹریکٹ کی شق 4.1 کو مدنظر رکھتے ہوئے شق 16 کے تحت پی سی بی سے تعاون کے طریقہ کار کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔
واضح رہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ کی شق 4.1 کے تحت کھلاڑی پی سی بی کی اجازت کے بغیر عوامی بیان نہیں دے سکتا، جبکہ شق 16 میں بورڈ اور کھلاڑی کے درمیان باہمی تعاون سے متعلق امور شامل ہیں۔





