پاکستان میں تعلیم اور روزگار کے مسائل کی ایک افسوسناک تصویر اس وقت سامنے آئی جب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے گولڈ میڈلسٹ اور ٹاپر نوجوان اسامہ محمود کو ملازمت نہ ملنے کے باعث مزدوری کرتے دیکھا گیا۔
اسامہ محمود نے بی ایس بینکنگ اینڈ فنانس کی ڈگری میں پہلی پوزیشن حاصل کی، تاہم طویل عرصے تک ملازمت کی تلاش کے باوجود انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ حالات سے مایوس ہوکر گھر بیٹھنے کے بجائے نوجوان نے محنت اور حلال روزگار کو ترجیح دی اور تعمیراتی کام میں دیہاڑی مزدوری شروع کردی۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں اسامہ محمود کو بیلچہ اٹھائے اور تعمیراتی کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تعلیمی نظام، روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق مختلف آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بہت سے صارفین نے اسامہ محمود کی محنت اور حلال رزق کمانے کے جذبے کو سراہا، جبکہ بعض نے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع پر تشویش کا اظہار کیا۔
اسامہ محمود کی کہانی اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ کام کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، تاہم اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوجوانوں کو اپنی قابلیت کے مطابق روزگار کے مواقع نہ ملنا ایک اہم معاشرتی اور معاشی مسئلہ ضرور ہے۔





