بین الاقوامی

نیویارک میں ڈیلیوری ورکرز کے لیے 13 کروڑ ڈالر سے زائد کا معاوضہ پیکج

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - نیویارک میں ڈیلیوری ورکرز کے لیے 13 کروڑ ڈالر سے زائد کا معاوضہ پیکج
یہ بھی پڑھیں: امریکی پابندیوں کے باوجود تہران ایئرپورٹ پر بین الاقوامی پروازیں جاری ہے: ایرانی حکام

نیویارک: ڈیلیوری ورکرز کو کم ادائیگی اور تاخیر سے اجرت ملنے کی تحقیقات کے بعد DoorDash نے نیویارک سٹی انتظامیہ کے ساتھ 131.5 ملین ڈالر کا معاہدہ کرلیا۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اور محکمہ صارف و کارکن تحفظ (DCWP) کے مطابق اس معاہدے کے تحت 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد ڈیلیوری ورکرز کو مجموعی طور پر 115 ملین ڈالر سے زیادہ براہِ راست ادا کیے جائیں گے۔ باقی رقم جرمانوں اور دیگر اخراجات کی مد میں ہوگی۔

ہزاروں ورکرز کو کم یا تاخیر سے ادائیگی

نیویارک سٹی حکام کی تحقیقات میں اپریل 2022 سے جون 2026 کے دوران DoorDash کے ادائیگی کے ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق بڑی تعداد میں ورکرز کو ان کے کام کے بدلے کم رقم دی گئی، جبکہ بعض ورکرز کو ادائیگی تاخیر سے ہوئی یا مکمل ادائیگی نہیں کی گئی۔

تحقیقات کے بعد کمپنی نے معاہدے کے تحت متاثرہ ورکرز کو رقم واپس کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ حکام کے مطابق ورکرز کو رقم حاصل کرنے کے لیے الگ سے کلیم دائر کرنے یا ثبوت جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ڈیلیوری ورکرز کے لیے کم از کم معاوضہ کتنا ہے؟

نیویارک سٹی میں فوڈ ڈیلیوری ورکرز کے لیے موجودہ کم از کم معاوضہ 22.13 ڈالر فی گھنٹہ مقرر ہے، جبکہ ٹپس اس رقم سے الگ ہیں۔ یہ شرح مہنگائی کے حساب سے وقتاً فوقتاً ایڈجسٹ کی جاتی ہے۔

ورکرز کو رقم کب ملے گی؟

نیویارک سٹی حکام کے مطابق متاثرہ ورکرز کو اکتوبر کے آخر میں ای میل کے ذریعے بتایا جائے گا کہ انہیں کتنی رقم ملے گی۔ ادائیگی الیکٹرانک طریقے یا ڈاک کے ذریعے چیک کی صورت میں حاصل کی جا سکے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت DoorDash کو مستقبل میں ورکرز کی ادائیگی اور کام کے اوقات سے متعلق مزید تفصیلی ریکارڈ بھی فراہم کرنا ہوگا تاکہ دوبارہ ایسے مسائل کی نگرانی کی جا سکے۔

بڑی رقم، ہزاروں ورکرز کو براہِ راست فائدہ

131.5 ملین ڈالر کا یہ معاہدہ نیویارک سٹی کی جانب سے کارکنوں سے متعلق اب تک کے بڑے قانونی نفاذی اقدامات میں شامل ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ متاثرہ ڈیلیوری ورکرز کو واپس کیا جائے گا، جبکہ باقی رقم جرمانوں اور انتظامی اخراجات کے لیے مختص ہے۔