Humayun Saeed on Netflix
پاکستانی ڈراموں کی اپنی الگ پہچان اور انداز ہے، لیکن انہیں عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے موزوں بنانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ معروف پاکستانی اداکار اور پروڈیوسر ہمایوں سعید نے کہا ہے کہ پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو نیٹ فلکس جیسے عالمی پلیٹ فارمز کے پیچھے جانے سے پہلے اپنا مقامی او ٹی ٹی پلیٹ فارم بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس تک کیوں نہیں پہنچ رہے؟
ہمایوں سعید نے علی سلمان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستانی ڈراموں اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے درمیان فرق پر گفتگو کی۔
ان کے مطابق پاکستانی ڈراموں کی کہانی لکھنے، مکالمے بولنے اور اداکاری کا اپنا مخصوص انداز ہے، کیونکہ ان کا تعلق اردو زبان اور مقامی ثقافت سے ہے۔ دوسری جانب او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر نسبتاً مختلف اور جرات مندانہ موضوعات پر مبنی کہانیاں بھی پیش کی جاتی ہیں۔
ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ پاکستانی انڈسٹری میں ایسے افراد موجود ہیں جو او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے لیے کہانیاں بنا سکتے ہیں، لیکن ان کے لیے موزوں مقامی پلیٹ فارمز کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔

نیٹ فلکس سے پہلے اپنا او ٹی ٹی پلیٹ فارم بنانے کی تجویز
ہمایوں سعید نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنا مقامی او ٹی ٹی پلیٹ فارم قائم کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے خیال میں اس طرح مقامی کہانیوں اور نئے تخلیقی تجربات کو آگے بڑھانے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں مقامی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پہلے سامنے آئے اور گزشتہ 12 سے 13 برسوں میں ترقی کرتے رہے۔
ہمایوں سعید نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی حکومت کو نیٹ فلکس کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تاہم، انہوں نے نیٹ فلکس پر پاکستان کی عدم موجودگی کے ممکنہ سیاسی اسباب کا ذکر تو کیا، لیکن اس کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
کیا پاکستانی ڈرامے عالمی ناظرین کو متاثر کرسکتے ہیں؟
پاکستانی ڈرامے اپنی کہانیوں، جذباتی موضوعات، خاندانی رشتوں اور سماجی مسائل کی عکاسی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تاہم، عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر جگہ بنانے کے لیے مقامی مواد کو بین الاقوامی ناظرین کی توقعات کے مطابق پیش کرنے، مختلف موضوعات آزمانے اور معیاری پروڈکشن پر توجہ دینا بھی اہم ہوسکتا ہے۔
ہمایوں سعید کی گفتگو سے یہ بحث سامنے آتی ہے کہ پاکستانی ڈراموں کی شناخت برقرار رکھتے ہوئے انہیں عالمی ناظرین تک پہنچانے کے لیے کس نوعیت کی تبدیلیوں اور پلیٹ فارمز کی ضرورت ہے۔
نیٹ فلکس پر پاکستانی مواد سے متعلق دیگر اداکاروں کی رائے
اس سے قبل اداکارہ عروہ حسین بھی پاکستانی مواد اور نیٹ فلکس کے موضوع پر اپنی رائے دے چکی ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان کو نیٹ فلکس کے حصول کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کے بجائے اپنی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی کامیابیوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
فیصل قریشی، شمون عباسی اور اسامہ خان بھی پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے تیاری اور صلاحیتوں کے حوالے سے مختلف آرا کا اظہار کر چکے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جولائی میں بتایا تھا کہ حکومت نیٹ فلکس اور دیگر عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ساتھ علاقائی فریم ورک سے متعلق معاملات پر بات چیت کر رہی ہے۔
پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے لیے آگے کا راستہ
ہمایوں سعید کے بیان نے پاکستانی ڈراموں کی عالمی رسائی، مقامی او ٹی ٹی پلیٹ فارم کی ضرورت اور تخلیقی مواد کے مستقبل پر بحث کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ ان کے مطابق، صرف عالمی پلیٹ فارمز تک رسائی کی کوشش کافی نہیں؛ مقامی سطح پر ایسے مواقع اور سہولتیں پیدا کرنا بھی ضروری ہے جہاں تخلیق کار نئی کہانیاں پیش کرسکیں۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی ڈرامہ انڈسٹری کی منفرد شناخت برقرار رکھتے ہوئے اسے عالمی ناظرین تک پہنچانے کے لیے کس طرح کے عملی اقدامات کرتا ہے۔
مزید خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔





