بین الاقوامی

ایران کا دوٹوک مؤقف، جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہیں: عباس عراقچی

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - ایران کا دوٹوک مؤقف، جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہیں: عباس عراقچی
یہ بھی پڑھیں: کیونکہ مجھے نوبیل انعام نہیں ملا، اس لیے میں ناروے سے کسی کو نہیں چاہتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنے دشمن کے ساتھ دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہے، چاہے صورتحال انتہائی سنگین جنگ تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کے مؤقف اور امن منصوبے کی شرائط بیان کیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ اس کے وہ اثاثے جاری کیے جائیں جنہیں تہران غیر قانونی طور پر منجمد قرار دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت بھی دی جائے، جبکہ کچھ دیگر معاملات پر امریکا ماضی کے معاہدوں میں پہلے ہی وعدے کر چکا ہے۔

عباس عراقچی نے گزشتہ سال ہونے والی 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس دوران امریکا اور اسرائیل نے مذاکرات جاری ہونے کے باوجود ایران پر حملہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے بعد ایران کے لیے سفارت کاری کی طرف واپس جانے کی کوئی واضح وجہ نظر نہیں آتی، تاہم وہ اب بھی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے مطابق امن کے کسی بھی ممکنہ موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبہ مسترد کیے جانے کی اطلاعات سنی ہیں، تاہم تہران اب بھی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے باضابطہ جواب کا انتظار کر رہا ہے۔