بین الاقوامی

باقر قالیباف کا امریکی مؤقف پر طنز، ’یا عالمی تیل مارکیٹ احمق ہے یا امریکا جھوٹ بول رہا ہے‘

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - باقر قالیباف کا امریکی مؤقف پر طنز، ’یا عالمی تیل مارکیٹ احمق ہے یا امریکا جھوٹ بول رہا ہے‘
یہ بھی پڑھیں: بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی مؤقف پر سخت طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں تو پھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافی پریمیم کیوں شامل ہے۔

قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ تیل کی قیمتوں میں جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 35 ڈالر کا اضافی پریمیم شامل ہے، جبکہ موجودہ اور دیگر قیمتوں کے حساب سے یہ فرق 50 ڈالر تک بنتا ہے۔

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یا تو عالمی تیل مارکیٹ احمق ہے جو اتنی زیادہ قیمت پر تیل خرید رہی ہے، یا پھر امریکا کا بیانیہ حقیقت پر مبنی نہیں۔

قالیباف نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ امریکی مؤقف پر یقین رکھتے ہیں، ان کے لیے آبنائے ہرمز میں گویا مفت ڈالر فراہم کرنے والی مشین موجود ہے اور انہیں وہاں جا کر فائدہ اٹھانا چاہیے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور وہاں سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے معاملے پر متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ دستیاب شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بڑے تجارتی جہازوں کی تعداد معمول کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی ہے، تاہم مختلف ذرائع کے اعداد و شمار میں فرق بھی موجود ہے۔