اسلام آباد: ملک میں پیٹرول کی اصل قیمت اور شہریوں سے وصول کی جانے والی مقررہ قیمت کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی لاگت 254 روپے 96 پیسے بنتی ہے، جبکہ صارفین کے لیے اس کی قیمت 391 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔
دستاویزات کے مطابق پیٹرول کی اصل قیمت اور فروختی قیمت کے درمیان 136 روپے 34 پیسے فی لیٹر کا فرق ہے۔ اس فرق میں مختلف ٹیکس، لیوی، ڈیوٹیز اور مارجنز شامل ہیں۔
پیٹرول پر کون کون سے چارجز عائد ہیں؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر 80 روپے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 23 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی عائد ہے۔
اس کے علاوہ پیٹرول پر ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن کی مد میں 7 روپے 91 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 7 روپے 87 پیسے اور ڈیلرز مارجن 9 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہے۔
دستاویزات میں پیٹرول پر لیوی، ٹیکس اور مختلف مارجنز کی مجموعی وصولی 134 روپے 44 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے، جبکہ 1 روپے 90 پیسے ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ بھی شامل ہے۔
ڈیزل کی قیمت بھی اصل لاگت سے کافی زیادہ
ہائی اسپیڈ ڈیزل کے معاملے میں بھی اصل لاگت اور صارفین کے لیے مقررہ قیمت میں نمایاں فرق موجود ہے۔
دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی لاگت 285 روپے 85 پیسے بنتی ہے، جبکہ اس کی مقررہ قیمت 408 روپے 53 پیسے فی لیٹر ہے۔
یوں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اصل لاگت اور صارفین سے وصول کی جانے والی قیمت میں 122 روپے 68 پیسے فی لیٹر کا فرق بنتا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ٹیکسز، لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، فریٹ اور مختلف مارجنز شامل ہونے کے باعث صارفین کو اصل لاگت کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔





