لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ بھی کروایا گیا جبکہ انھوں نے مجاز عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔
پیر کو ڈی آئی جی انویسٹی گیشنز ذیشان رضا کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خاتون کی جانب سے درج کروائے گئے مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور کیس میں ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کے میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹ میں جنسی زیادتی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ تاہم مقدمے کے دیگر پہلوؤں اور ملوث افراد سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
متاثرہ خاتون نے پولیس کو کیا بتایا؟
تھانہ ڈیفنس سی میں درج ایف آئی آر کے مطابق آذربائیجان کی 20 سالہ خاتون باکو کی رہائشی ہیں اور تقریباً 15 سے 20 روز قبل کاروباری مقصد کے لیے پاکستان آئی تھیں۔
خاتون کے بیان کے مطابق 25 ستمبر کو رات تقریباً 11 سے 12 بجے کے درمیان دو نامعلوم لڑکیاں ان کے پاس آئیں اور انھیں ڈنر کے لیے ایک نامعلوم کیفے میں لے گئیں۔
خاتون نے پولیس کو واقعے سے متعلق مزید تفصیلات بھی فراہم کیں، جن کی بنیاد پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کی گئیں۔
عدالت میں بھی بیان ریکارڈ
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کو مجاز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انھوں نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور واقعے میں ملوث دیگر افراد کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
یہ مقدمہ اتوار کو لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں درج کیا گیا تھا۔ چونکہ معاملہ زیرِ تفتیش ہے، اس لیے مقدمے میں سامنے آنے والے الزامات اور دعووں کو حتمی عدالتی فیصلہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔۔





