امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی تردید کردی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا نے ایران کو جوہری پروگرام سے متعلق اقدامات کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے بحال کرنے کی پیشکش کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس (Axios) کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو ایسی کوئی پیشکش نہیں کی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ایگزیوس کی خبر کو افواہ قرار دیا اور ویب سائٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس خبر کو فوری طور پر ہٹا دے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران کو کچھ بھی پیشکش نہیں کی گئی اور ایگزیوس کی رپورٹ درست نہیں۔
ایگزیوس کی رپورٹ میں کیا کہا گیا تھا؟
اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے ایک اہم صحافی نے رپورٹ کیا تھا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کرتا ہے تو صدر ٹرمپ تہران کو پابندیوں میں ریلیف دینے اور ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کرسکتے ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے اس رپورٹ کی براہِ راست تردید کے بعد دونوں دعوؤں میں واضح فرق سامنے آگیا ہے۔
قطر کی ثالثی بھی جاری
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کے لیے قطر کی ثالثی بھی جاری ہے۔ امریکی حکام سے قطری ثالث کی ملاقات کی اطلاعات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ قطری ثالث نے ایران کی تجاویز امریکا تک پہنچائی ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر جاری سفارتی کوششوں کے دوران دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔





