تہران: ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز اور تیل کی ترسیل سے متعلق کشیدگی کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خطے کے انفرااسٹرکچر کے حوالے سے سخت وارننگ دے دی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر ایران کو اپنے تیل کی فروخت کی اجازت نہیں دی جاتی تو خطے کے کسی دوسرے ملک کو بھی تیل فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر ایران کی سکیورٹی یقینی نہ بنائی گئی تو خطے میں کوئی بھی انفرااسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا۔
قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں مرکزی معاملہ بنی ہوئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور اس میں رکاوٹ سے تیل اور گیس کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر بات چیت
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ایران کی بعض شرائط پوری ہونے سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق قطر کے ثالثی کردار کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان تجاویز کا تبادلہ جاری ہے اور تہران واشنگٹن کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق قطر نے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے نکات امریکا تک پہنچانے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس سفارتی سرگرمی کا مقصد آبنائے ہرمز کی صورتحال اور وسیع تر تنازع پر کسی ممکنہ سمجھوتے کی راہ تلاش کرنا ہے۔
خطے کی توانائی پر بھی اثرات
آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی نے پہلے ہی خطے کی توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ستمبر میں مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں کچھ بحالی ہوئی، تاہم یہ اب بھی تنازع شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے کم ہیں۔
قالیباف کی تازہ وارننگ سے واضح ہے کہ تہران اپنی سکیورٹی، تیل کی برآمدات اور آبنائے ہرمز کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ دوسری جانب سفارتی سطح پر بات چیت جاری رہنے کے باعث خطے کی نظریں اب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ پیش رفت پر ہیں۔
اہم بات: قالیباف کی جانب سے انفرااسٹرکچر کے محفوظ نہ رہنے کی بات ایک سیاسی وارننگ ہے؛ اسے کسی مخصوص تنصیب پر حملے کے اعلان کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔
source : express news





