پاکستان

بلوچستان میں سی ٹی ڈی کا بڑا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 10 دہشت گرد ہلاک

بارکھان بلوچستان میں سی ٹی ڈی آپریشن سے متعلق خبر
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - بلوچستان میں سی ٹی ڈی کا بڑا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 10 دہشت گرد ہلاک
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں مجبوری میں ایمرجنسی لگانی پڑی، وزیراعظم شہباز شریف

بلوچستان کے ضلع بارکھان میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کارروائی کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جبکہ سی ٹی ڈی کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

سی ٹی ڈی بلوچستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بارکھان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فتنہ الہندوستان کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور ان کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔

ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں محکمے کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمی اہلکاروں کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری کردہ بیان میں فراہم نہیں کی گئیں۔

سی ٹی ڈی کے مطابق سیکیورٹی فورسز، پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

بلوچستان طویل عرصے سے سیکیورٹی کے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ایسے حالات میں سی ٹی ڈی اور دیگر سیکیورٹی ادارے مشتبہ سرگرمیوں سے متعلق معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں۔

بارکھان میں ہونے والی اس کارروائی کے حوالے سے سی ٹی ڈی کے بیان میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد، اسلحے کی برآمدگی اور اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ تاہم، ہلاک افراد کی شناخت، برآمد ہونے والے اسلحے کی نوعیت اور کارروائی کے دیگر پہلوؤں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے پر صورت حال واضح ہوسکے گی۔

حکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا مقصد امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا اور ممکنہ خطرات کا تدارک کرنا ہے۔ بارکھان آپریشن سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنے کے بعد اس کارروائی کے نتائج اور دیگر پہلوؤں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکیں گی۔