پاکستان

حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آر

DG ISPR Ahmed Sharif Chaudhry Haramain protection
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آر
یہ بھی پڑھیں: انویسٹمنٹ کے نام پر 15 ارب سے زائد کا فراڈ، عدالت نے ڈی جی نیب طلب کرلیا

DG ISPR Statement

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح اور دو ٹوک ہے۔ ان کے مطابق، اس حوالے سے پاکستان کا پیغام سیاسی قیادت اور فیلڈ مارشل کے ذریعے پہلے ہی سامنے آ چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقدس مقامات پر حملوں کے معاملے پر پاکستانی عوام، سیاسی قیادت اور عسکری قیادت میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

سعودی عرب کی خودمختاری پاکستان کے لیے اہم کیوں ہے؟

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کے واضح مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا بیان پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اور خطے کی سلامتی سے متعلق معاملات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

مکہ الائنس اور مشترکہ دفاعی تعاون پر اہم بیان

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انٹرویو میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بہت کم وقت میں آگے بڑھا ہے اور تین ممالک کی مشترکہ سوچ کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تنازعات کی شدت میں اضافہ کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا ضروری ہے اور مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنا ناگزیر ہے۔

مذاکرات ناکام ہوئے تو کیا ہوگا؟

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے میں ناکامی ہوئی تو مکہ الائنس کی اجتماعی دفاعی صلاحیت حرکت میں آ سکتی ہے۔

تاہم، انہوں نے اس اتحاد کے مقاصد کے بارے میں کہا کہ اس کا کوئی جارحانہ ارادہ نہیں اور نہ ہی یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف قائم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، اتحاد کا بنیادی مقصد خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔

یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی کوششوں اور دفاعی تعاون کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔

Alt attribute format

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ مؤقف

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، مسلمانوں کو باہمی تنازعات میں الجھنے کے بجائے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی تنازع کو مزید پھیلانے کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔

DG ISPR Statement

مزید خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Faisal Karim Kundi | وفاق کے ساتھ اختلافات ختم، : گورنر کے پی