Iran Father of All Bombs
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو جارحانہ انداز میں تبدیل کر رہا ہے، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اعتماد سازی کی صورت میں سفارت کاری کا ایک اور موقع دینے کا اشارہ بھی دیا ہے۔
ایران کی مسلح افواج پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ایک نئے ہتھیار کی تیاری کا دعویٰ کرتے ہوئے جلد ’فادر آف آل بمز‘ کے نام سے بم کی نمائش کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ہتھیار دشمن کے لیے ایک نیا تجربہ ثابت ہوسکتا ہے، تاہم اس کی تکنیکی خصوصیات اور تباہ کن صلاحیت سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ایران کی جنگی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا اعلان
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران اپنی جنگی حکمتِ عملی کو صرف دفاع تک محدود رکھنے کے بجائے جارحانہ اور غیر روایتی انداز میں تبدیل کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ایران پر حملہ کرنے والے کسی بھی ملک کو جوابی کارروائی اور زمینی پیش قدمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بیان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
امریکا کے ’مدر آف آل بمز‘ سے متعلق منصوبے
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیے جانے کی صورت میں امریکی فوج نے ایران کی توانائی کی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے منصوبے تیار رکھے ہیں۔
ان رپورٹوں میں امریکا کے سب سے بڑے غیر ایٹمی بموں میں شمار ہونے والے ’مدر آف آل بمز‘ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ تاہم، ایران میں اس ہتھیار کے ممکنہ استعمال سے متعلق دعووں کو تصدیق شدہ فوجی کارروائی نہیں سمجھنا چاہیے۔

آبنائے ہرمز پر کشیدگی اور امریکا کے لیے ممکنہ اثرات
ایرانی ترجمان نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے امریکا کو خبردار کیا کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں کشیدگی امریکی معیشت اور سیاست پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی تیل کی فراہمی اور عالمی منڈیوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق یہ صورتِ حال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا سفارت کاری کے لیے بھی اشارہ
فوجی بیانات اور سخت مؤقف کے باوجود ایران نے سفارت کاری کا راستہ مکمل طور پر بند نہ کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون کے اقتباسات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے اعتماد سازی اور منصفانہ حل تک پہنچنے کی حقیقی خواہش کے ٹھوس شواہد سامنے آئیں تو تہران سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے تیار ہے۔
تاہم، عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے مذاکرات کے بجائے جنگ کا راستہ اختیار کیا تو اس کے نتائج امریکا کے لیے ایک اور بڑی حکمتِ عملی کی ناکامی اور تاریخی شکست کی صورت میں نکل سکتے ہیں۔
ایران امریکا کشیدگی کا آئندہ رخ کیا ہوگا؟
ایران کے نئے ہتھیار سے متعلق دعوے، امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائیوں کی رپورٹس اور عباس عراقچی کا سفارتی بیان خطے کی صورتِ حال کے اہم پہلو ہیں۔ تاہم، نئے ہتھیار کی حقیقی صلاحیت، امریکا کے آئندہ اقدامات اور مذاکرات کے امکانات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید مستند معلومات درکار ہیں۔
فی الحال ایرانی حکام نے فوجی تیاریوں کے ساتھ سفارت کاری کی گنجائش بھی برقرار رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔
مزید خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
Israel Iran strikes | ایران پر حملوں کی بھیانک منصوبہ بندی
Iran Father of All Bombs
Iran Father of All Bombs
Iran Father of All Bombs





