دوحہ سے سیالکوٹ آنے والی قطر ایئرویز کی پرواز سے متعلق سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ طیارہ پاکستان کے بجائے بھارت کے زیرِ انتظام جموں کی جانب چلا گیا اور وہاں فضا میں کئی چکر لگاتا رہا۔ تاہم سیالکوٹ ایئرپورٹ حکام نے اس دعوے کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ پرواز سیالکوٹ ایئرپورٹ پر ہی اتری تھی۔
سیالکوٹ ایئرپورٹ کے ترجمان کے مطابق قطر ایئرویز کی پرواز QR630 نے 27 ستمبر کی علی الصبح دوحہ سے سیالکوٹ پہنچ کر معمول کے مطابق لینڈنگ کی اور مقررہ وقت پر دوبارہ دوحہ کے لیے روانہ ہوگئی۔
یہ وضاحت اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ پرواز سیالکوٹ سے آگے جموں کی سمت بڑھی اور ایک مقام پر بار بار چکر لگاتی رہی۔
فلائٹ ریڈار 24 پر ایسا کیوں دکھائی دیا؟
سیالکوٹ ایئرپورٹ کے ترجمان نے بتایا کہ اس معاملے میں فلائٹ ریڈار 24 پر دکھائی دینے والا راستہ درست صورتِ حال کی عکاسی نہیں کر رہا تھا۔ ترجمان کے مطابق ممکنہ تکنیکی خرابی اور جی پی ایس سے متعلق غلط معلومات کی وجہ سے پرواز کا مقام اور راستہ سافٹ ویئر پر غلط انداز میں ظاہر ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اصل لینڈنگ کی تصدیق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ریڈار سسٹم سے کی جا سکتی ہے، جو نجی فلائٹ ٹریکنگ سروس سے مختلف اور متعلقہ ایئر ٹریفک کنٹرول نظام کا حصہ ہے۔
کیا جی پی ایس سگنل میں مداخلت بھی وجہ ہو سکتی ہے؟
ماہرین کے مطابق ہوائی جہازوں کی پوزیشن معلوم کرنے والے نظام بعض حالات میں غلط یا غیر معمولی معلومات دکھا سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں GPS سگنلز میں مداخلت یا ان کی جعل سازی (spoofing) ہو، طیارے کی پوزیشن ٹریکنگ سروسز پر غلط ظاہر ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں روس-یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے دوران GPS میں مداخلت کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ تاہم کسی مخصوص پرواز کے معاملے میں یہ طے کرنے کے لیے مزید تکنیکی شواہد درکار ہوتے ہیں کہ غلط پوزیشن کی وجہ GPS مداخلت تھی، سافٹ ویئر کی خرابی تھی یا ڈیٹا کے کسی اور حصے میں مسئلہ پیدا ہوا تھا۔
فلائٹ ریڈار 24 کی وضاحت
فلائٹ ریڈار 24 دنیا بھر میں طیاروں کی پروازوں کو ٹریک کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے ڈیٹا حاصل کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے سسٹم میں پرواز کی معلومات مختلف وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر غلط یا نامکمل بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔
اس لیے کسی طیارے کی لائیو ٹریکنگ اسکرین پر نظر آنے والے راستے کو، خاص طور پر غیر معمولی صورتِ حال میں، ایئر ٹریفک کنٹرول کے سرکاری ریڈار ریکارڈ کا متبادل نہیں سمجھا جاتا۔
سیالکوٹ ایئرپورٹ حکام کے مطابق اس معاملے میں قطر ایئرویز کی پرواز نے سیالکوٹ میں ہی لینڈنگ کی تھی، جبکہ فلائٹ ریڈار 24 پر نظر آنے والا غیر معمولی راستہ تکنیکی مسئلے یا غلط لوکیشن ڈیٹا سے متعلق تھا۔





