ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل محبی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ بہت بڑے جھوٹے ہیں اور امریکی عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران جنرل محبی نے امریکی حکومت کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت کی توجہ امریکی عوام کے بجائے اسرائیلی حکومت پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
امریکی فوج سے متعلق بڑا دعویٰ
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے امریکی فوج کی صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھایا۔ جنرل محبی کے مطابق امریکی فوج ان ممالک کے خلاف بھی لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جن کا دفاعی بجٹ پینٹاگون کے بجٹ کا صرف 10 فیصد ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس شکست تسلیم کرنے اور خطے سے نکل جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
ایران کے نئے ہتھیار میدان میں لانے کا دعویٰ
جنرل محبی نے کہا کہ پاسداران انقلاب ایران اور خطے میں لوٹ مار کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہے۔
ان کے مطابق اگر موجودہ تنازعات نے مستقبل میں کوئی اور شکل اختیار کی تو ایران بھی میدان جنگ میں نئے ہتھیار لے کر آئے گا۔
جنرل محبی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان خطے میں کشیدگی اور مختلف معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ تاہم پریس بریفنگ میں کیے گئے ان دعوؤں کی تفصیلات اور ان پر امریکی مؤقف اس خبر کے فراہم کردہ متن میں شامل نہیں ہے۔





