موسمیات

لاہور کی فضا کے بارے میں تشویشناک رپورٹ، اوزون کی سطح ’انتہائی خراب‘ قرار

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - لاہور کی فضا کے بارے میں تشویشناک رپورٹ، اوزون کی سطح ’انتہائی خراب‘ قرار
یہ بھی پڑھیں: عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ 2027 کی متوقع تعطیلات کا اعلان، یو اے ای میں کتنی چھٹیاں ملیں گی؟

لاہور کو یورپی یونین کی نئی ماحولیاتی رپورٹ میں ان شہروں میں شامل کیا گیا ہے جہاں زمینی سطح پر اوزون کی صورتحال ’انتہائی خراب‘ قرار دی گئی ہے۔

یورپی یونین کی کوپرنیکس ایٹموسفیئر مانیٹرنگ سروس (CAMS) کی نئی تجزیاتی رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے درمیان گہرے تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی کو اوزون کی انتہائی بلند سطح کی آلودگی کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید گرمی کی لہروں اور جنگلات کی آگ کے ساتھ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنایا۔

اوزون آلودگی کیسے پیدا ہوتی ہے؟

جب شدید گرمی اور سورج کی روشنی جنگلات کی آگ، گاڑیوں اور صنعتی سرگرمیوں سے خارج ہونے والے آلودہ ذرات اور گیسوں کے ساتھ کیمیائی عمل کرتی ہے تو زمینی سطح پر اوزون بنتی ہے۔

اس سطح پر موجود اوزون انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی نظام اور فصلوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتی ہے۔

تاہم فضا کی بہت بلندی پر، یعنی اسٹریٹوسفیئر میں موجود اوزون کا کردار مختلف ہے۔ وہاں اوزون سورج کی نقصان دہ بالائے بنفشی (UV) شعاعوں سے زمین پر موجود زندگی کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے مسئلہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

CAMS کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں کئی نقصان دہ فضائی آلودگیوں کو کم کرنے میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اوزون کی آلودگی پر قابو پانا نسبتاً مشکل ثابت ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ان حالات کو بڑھا رہی ہے جو اوزون بننے کے لیے سازگار ہوتے ہیں۔

رواں سال یورپ اور شمالی امریکا میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں اور جنگلات کی آگ نے بھی اوزون آلودگی میں اضافہ کیا، جبکہ آگ سے اٹھنے والا دھواں سرحدوں سے کہیں دور تک پہنچا۔

انڈونیشیا میں بھی بڑی جنگلاتی آگ کا سامنا رہا، جبکہ جنوب مشرقی ایشیا میں موسم پر اثر انداز ہونے والے ایل نینو کے باعث مزید آگ لگنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

CAMS کی ڈائریکٹر لارنس روئیل کے مطابق فضائی آلودگی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرتے ہوئے براعظموں اور سمندروں کو عبور کرسکتی ہے اور اپنے منبع سے بہت دور علاقوں کی ہوا کے معیار کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔


SOURCE:DAWN.NEWS