امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فلائی دبئی کے حالیہ واقعے میں ایران کا کوئی تعلق ثابت ہوا تو تہران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 بدھ کو دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی کہ دورانِ پرواز کو پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان پر حملہ کیا، جس کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام تاحال حملے کے محرکات کا تعین نہیں کرسکے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں واقعے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے اور جو معلومات وہ سن رہے ہیں، ان کی بنیاد پر ایران سے ممکنہ تعلق کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اس واقعے کے پیچھے پایا گیا تو اسے ’’بہت سخت‘‘ نشانہ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ واقعے میں ملوث پائلٹ کا ایران سے کوئی تعلق تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے ذریعے اس بارے میں مزید معلومات سامنے آسکتی ہیں۔
واقعے کے بعد امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ممکنہ کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ابھی تک ایران کے ملوث ہونے کا کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کے معاملے پر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔





