خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صدرِ مملکت اور وزیراعظم جب بھی صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کریں گے تو صوبہ اس فیصلے کو لاگو کرے گا۔جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جو لوگ پاکستان کے آئین اور قانون کو نہیں مانتے، ان کے ساتھ مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دنیا میں پاکستان کا سافٹ امیج سامنے آنے پر بھی ملک دشمن سرگرمیاں کی جاتی ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مارچ اٹک سے آگے نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے پاس 20 لاکھ افراد کا مجمع نہیں اور ان کے پاس مطلوبہ تعداد میں لوگ موجود نہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کے بجائے چار فرنچائز پر مشتمل جماعت قرار دیا اور صوبے کی صورتحال پر بھی شدید تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا ستیاناس کردیا گیا ہے، جبکہ صوبے کے سابق وزیراعلیٰ کی جانب سے بھی بھتہ دینے کا بیان سامنے آ چکا ہے۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ کا صوبے پر کنٹرول نہیں اور صوبائی حکومت مراد سعید کے اشاروں پر چل رہی ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبے کی صورتحال کے حوالے سے آئینی راستوں پر غور کر رہی ہے۔ 4 اکتوبر کو فیصل کریم کنڈی نے وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت محسوس کیے جانے کی صورت میں اپنا آئینی کردار ادا کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی۔
دوسری جانب 5 اکتوبر کو رپورٹس میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی اور گورنر راج سمیت مختلف آئینی اقدامات پر غور کر رہی ہے، تاہم کسی ایک اقدام کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
آئین کے تحت آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں مخصوص حالات میں کارروائی کا راستہ فراہم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 232 ہنگامی صورتحال سے متعلق ہے۔ دونوں کے لیے آئینی شرائط اور الگ الگ طریقۂ کار موجود ہیں۔





