2026 کا نوبیل امن انعام جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی وکیل اور جج ناوانیتھم ناوی پلے کے نام کردیا گیا ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش ایک بار پھر پوری نہ ہوسکی۔
ناروے کی نوبیل کمیٹی کے مطابق ناوی پلے کو امن کے فروغ اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے خدمات انجام دینے پر اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
23 ستمبر 1941 کو جنوبی افریقا کے شہر ڈربن میں پیدا ہونے والی ناوی پلے بھارتی نژاد تامل خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے نسل پرستی کے دور میں امتیازی سلوک کا سامنا کیا اور قانون کے شعبے میں اپنی شناخت بنائی۔ وہ جنوبی افریقا میں نسلی امتیاز کے خلاف سرگرم افراد کا عدالتوں میں دفاع کرتی رہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کیا۔
نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد ناوی پلے نے بین الاقوامی سطح پر بھی اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ روانڈا کے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں جج اور بعد ازاں اس کی صدر رہیں۔ وہاں ان کی خدمات نے جنسی تشدد کو جنگی جرائم اور نسل کشی سے متعلق مقدمات میں قانونی طور پر تسلیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ناوی پلے نے 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بھی رہیں۔ ان کی قانونی جدوجہد کا بنیادی مقصد جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا رہا ہے۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق ناوی پلے نے بین الاقوامی قانونی نظام کو مضبوط بنانے اور ریاستوں سمیت عالمی رہنماؤں کو قانون کے تابع رکھنے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ کمیٹی نے ایسے وقت میں ان کی خدمات کو سراہا ہے جب دنیا میں جنگوں اور تنازعات کے باعث بین الاقوامی قانون اور انصاف کے اداروں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔
نوبیل امن انعام کا مقصد ان افراد یا اداروں کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے جو امن، عالمی تعاون اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس انعام کا آغاز سویڈن کے موجد اور کاروباری شخصیت الفریڈ نوبیل کی وصیت کے تحت ہوا، جبکہ پہلا نوبیل امن انعام 1901 میں دیا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف مواقع پر نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کی جانب سے امن کے لیے اپنی کوششوں کو انعام کے قابل قرار دینے کے باوجود 2026 کا یہ اعزاز انہیں نہیں ملا اور اس سال یہ انعام ناوی پلے کے حصے میں آیا۔





