پاکستان

اسلام آباد: مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ گولڈ میڈلسٹ تھی، والد نے پلاٹ بیچ کر ایجنٹ کو 21 لاکھ روپے دیے

اسلام آباد طالبہ لائبہ خودکشی کیس پولیس تفتیش
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - اسلام آباد: مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ گولڈ میڈلسٹ تھی، والد نے پلاٹ بیچ کر ایجنٹ کو 21 لاکھ روپے دیے
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کے لیے رقم بھیجنے کی حد بڑھا کر 25 ہزار کردی گئی

اسلام آباد: تھانہ رمنا کے علاقے سیکٹر جی 10 میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کے معاملے پر پولیس نے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبہ لائبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی تھی، تاہم یونیورسٹی میں داخلے کے نام پر مبینہ فراڈ کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس کے مطابق طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی، جس کے بعد موت کی اصل وجہ رپورٹ سامنے آنے پر واضح ہو سکے گی۔ حکام معاملے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

اہلخانہ کے مطابق لائبہ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی تھی۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی تھی، جس کے لیے ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے عوض 70 لاکھ روپے طلب کیے تھے۔

ذرائع کے مطابق لائبہ کے والد موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے اپنے بچوں کی تعلیم اور گھر کے اخراجات پورے کرتے تھے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ کرائے کے فلیٹ میں رہنے والے والد نے بیٹی کے مستقبل کے لیے اپنا پلاٹ فروخت کیا اور مبینہ طور پر 21 لاکھ روپے نقد ایجنٹ کو ادا کیے۔

اہلخانہ کے مطابق باقی رقم کا انتظام کرنے کے لیے طالبہ کی والدہ کے زیورات بھی بینک میں رکھوائے گئے تھے۔ تاہم جب لائبہ نے یونیورسٹی میں داخلے سے متعلق دستاویزات کی تصدیق کروائی تو مبینہ طور پر وہ جعلی نکلیں۔

اس انکشاف کے بعد خاندان کو مبینہ فراڈ کا علم ہوا۔ اہلخانہ کے مطابق لائبہ نے اپنے ماموں کو آخری پیغام بھیجا تھا، جس میں اس نے درخواست کی کہ اس کے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں والد کو نہ بتایا جائے، کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ یہ خبر ان کے لیے شدید صدمے کا باعث بنے گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔ واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ بیرون ملک داخلے کے نام پر مبینہ فراڈ کے معاملے کی تفصیلات بھی سامنے آنے کا انتظار ہے۔