امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں موجود ایرانی وفد کو امریکا سے روانہ ہونے کی ہدایت کی، جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے بعد کیا گیا۔ قطر نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں کیں، تاہم مذاکرات میں اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت نہ ہوسکی۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد نے نیویارک سے روانگی کے بعد دوحہ کا رخ کیا۔ تاہم ایرانی اقوام متحدہ مشن نے امریکی مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وفد کی واپسی پہلے ہی طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوئی تھی اور اس شیڈول سے امریکی محکمہ خارجہ کو 17 ستمبر کو آگاہ کردیا گیا تھا۔
مذاکرات میں آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں جاری کشیدگی سمیت مختلف معاملات زیر بحث آئے تھے۔





