اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عسکری اور سیاسی قیادت نے طے کیا ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور ہونے چاہئیں۔
جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنا چاہتی ہے تو پشاور، مردان، لاہور یا کراچی سمیت دیگر شہروں میں احتجاج کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق اگر صدر اور وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے کسی کو بھیجا ہے تو اس معاملے میں متعلقہ حلقوں کو اعتماد میں لیا گیا ہوگا۔
رانا ثنا اللہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے متعلق کہا کہ اگر صوبائی حکومت کا کوئی مؤقف یا مسئلہ ہے تو اسے وفاقی حکومت کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے اپوزیشن سے بھی کہا کہ وہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی جانب لے جانے سے گریز کرے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال اور صوبائی حکومت کے تعاون سے متعلق معاملات بھی زیرِ غور ہیں۔ ان کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے آئینی اختیارات موجود ہیں، تاہم یہ اقدامات ناگزیر حالات میں ہی کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی معاملات پر مذاکرات کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ 2 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اسپیکر چیمبر میں دونوں فریقوں کے وفود نے ملاقات کی، تاہم پہلے اجلاس میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا اور مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔





