سوات: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری ہے اور اسے ملتوی نہیں کیا جا رہا، جبکہ حکومتی ہٹ دھرمی کے باعث مذاکرات کے حتمی ڈرافٹ پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل ممکن نہ ہو، پی ٹی آئی کے مطالبات سادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کل بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرائے اور ان کی فیملی کو بھی ملاقات کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نہ خیبرپختونخوا حکومت چھوڑ رہی ہے اور نہ ہی صوبائی اسمبلی تحلیل کرے گی۔ ان کے مطابق غیر آئینی اقدامات کے خلاف پی ٹی آئی کے تمام سینیٹرز، ایم این ایز اور ایم پی ایز بائیکاٹ پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات سمیت متعدد مطالبات حکومت کے سامنے رکھے گئے، تاہم حکومت نے کسی ایک بات پر بھی رضامندی ظاہر نہیں کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث ڈرافٹ کے نکات پر حتمی اتفاق نہ ہوسکا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل بھی ان کے مطالبات میں شامل تھا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ بیانیہ ہونا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے صوبائی معاملات میں وفاقی مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کسی اور کے احکامات پر عمل کریں گے تو صوبے میں امن کیسے قائم ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے ڈپٹی کمشنرز بھی مبینہ طور پر بیرونی احکامات پر دفعہ 144 نافذ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے دوران مخلصانہ کوششیں کیں لیکن حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں مداخلت بند کرے، کیونکہ ان کے بقول بغیر گورنر راج کے صوبے میں گورنر راج جیسی صورتحال پیدا کردی گئی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات میں پانچ نکات پر بات ہوئی، تاہم حکومت کی جانب سے سنجیدگی نہ دکھانے کے باعث حتمی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اب بھی وقت ہے، وہ آگے بڑھے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے۔





