پاکستان

سلمان اکرم راجہ نے محسن نقوی کا سہیل آفریدی پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام مسترد کردیا

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - سلمان اکرم راجہ نے محسن نقوی کا سہیل آفریدی پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام مسترد کردیا
یہ بھی پڑھیں: فتح-4 کے ایکسٹینڈڈ ورژن کا کامیاب تجربہ، نئے ورژن میں کیا بدلا؟

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے الزام کو مسترد کردیا۔

جیونیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار نہیں تھے، بلکہ حکومت کے ارادے کچھ اور تھے۔

سلمان اکرم راجہ کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے 5 اضلاع میں 72 گھنٹوں کے اندر ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ وہ ایسی ایمرجنسی کی اجازت نہیں دے سکتی۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اور مذاکراتی ٹیم کے مؤقف میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے بھی منگل کو ملاقات کی آمادگی ظاہر کی گئی تھی۔

عمران خان کے علاج کا معاملہ بھی مذاکرات میں زیر بحث

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خواہش تھی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا علاج ان کی اور ان کے خاندان کی مرضی کے مطابق کرایا جائے۔

ان کے مطابق حکومت کا مؤقف تھا کہ عمران خان کا علاج آئین اور قانون کے مطابق ہی ہوگا، جس پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف برقرار رہا۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات میں مشاورت اور اتفاق رائے کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

محسن نقوی نے سہیل آفریدی کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا تھا

اس سے قبل لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں تقریباً تمام معاملات پر اتفاق رائے ہوگیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔

محسن نقوی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت انسداد دہشت گردی سے متعلق ایک تحریری معاہدے اور 72 گھنٹوں میں عملدرآمد کے منصوبے پر آمادہ ہوئی تھی، تاہم مذاکرات کے آخری مرحلے میں صوبائی حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجوہات خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی اور عمران خان تک رسائی سے متعلق اختلافات تھے۔

یوں حکومت اور پی ٹی آئی دونوں مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں، جبکہ مذاکرات کے بعد سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔