اسلام آباد: ملک بھر میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے، بجلی کے شارٹ فال میں اضافے کے باعث مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔
فوکل پرسن ینگ انجینئرنگ کونسل عثمان فاروق کے مطابق سسٹم سے متعدد پاور ہاؤسز نکل گئے ہیں، جن کی 16 اکتوبر تک واپسی متوقع ہے۔ پاور ہاؤسز کی بندش کے باعث بجلی کا شارٹ فال ساڑھے 4 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرگیا ہے، جس کے نتیجے میں لیسکو سمیت ملک بھر کی ڈسکوز میں بجلی کی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔
عثمان فاروق کا کہنا ہے کہ بجلی کے شارٹ فال کے باعث غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ 3 سے 4 گھنٹے تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے مطابق گیس کے بعد ڈیزل اور پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کی جنریشن میں بھی کمی واقع ہوئی ہے، جس سے بجلی کی مجموعی پیداوار اور طلب کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب لیسکو ذرائع کے مطابق بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث شارٹ فال ایک ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرگیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق لیسکو چیف کی جانب سے ڈیمانڈ کے مطابق بجلی کا کوٹا بڑھانے کی درخواست بھی پوری نہیں ہوسکی، جس کے باعث لاہور سمیت لیسکو کے زیرِ انتظام علاقوں میں بجلی کی فراہمی کا نظام دباؤ کا شکار ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کے نظام کو اس وقت شارٹ فال کے باعث شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اگر بند پاور ہاؤسز مقررہ وقت تک سسٹم میں واپس نہ آئے یا بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو آئندہ چند روز کے دوران لوڈشیڈنگ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
بجلی کی طلب اور رسد میں موجود فرق کم کرنے کے لیے پاور سیکٹر میں پیداوار بڑھانے اور سسٹم میں بند یونٹس کی واپسی کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔





