دنیا کے سب سے معمر اور دوسرے معمر ترین مرد کی تاریخِ پیدائش ایک ہی ہے، اور دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ دونوں کی سالگرہ بھی ایک ہی دن ہوتی ہے۔
آسٹریلیا کے کین ویکس نے اپنی 113ویں سالگرہ کے موقع پر دنیا کے سب سے معمر مرد جوآؤ مارینو نیٹو کو بھی سالگرہ کی مبارکباد دی، جن کی عمر 114 سال ہوگئی ہے۔
کین ویکس کی پیدائش 5 اکتوبر 1913 کو آسٹریلیا کے نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے گرافٹن میں ہوئی تھی، جبکہ ان سے ایک سال قبل 5 اکتوبر 1912 کو برازیل کے علاقے مارانگوآپی میں جوآؤ مارینو نیٹو پیدا ہوئے۔
یوں دنیا کے دونوں معمر ترین مردوں کی تاریخِ پیدائش ایک ہی ہے۔ اس منفرد اتفاق کے باعث دونوں کے درمیان اس سال سالگرہ کے موقع پر مبارکباد کے پیغامات کا تبادلہ بھی ہوا۔
کین ویکس اس وقت آسٹریلیا کے ایک عمر رسیدہ افراد کے مرکز میں مقیم ہیں۔ جوآؤ مارینو کی جانب سے سالگرہ کی مبارکباد ملنے پر وہ انتہائی خوش ہوئے اور جواب میں ان کے لیے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کرا کے انہیں بھی سالگرہ کی مبارکباد دی۔
دونوں معمر افراد کے درمیان تقریباً 14 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ہے، تاہم اس طویل فاصلے کے باوجود سالگرہ کے موقع پر ہونے والا یہ رابطہ کسی پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر ہوا۔
کین ویکس 2018 سے عمر رسیدہ افراد کے مرکز میں مقیم ہیں۔ اس سے قبل وہ تقریباً 105 سال تک اپنے آبائی قصبے میں ہی مقیم رہے۔
ان کے دو بیٹے اور تین پوتے پوتیاں ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران انہوں نے آسٹریلیا کی فضائی فوج کا حصہ بننے کی کوشش بھی کی، تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔
1941 میں کین ویکس کی شادی جین میکافی سے ہوئی، جن سے ان کے دو بیٹے ہوئے۔ ان کی اہلیہ کا انتقال 1986 میں ہوگیا، جس کے بعد کین ویکس نے کئی برس تک اپنی زندگی خودمختار انداز میں گزاری۔
کین ویکس کو جسمانی طور پر متحرک رہنا ہمیشہ پسند رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ 100 سال کی عمر میں بھی اپنی خریداری خود کیا کرتے تھے۔
ان کی پوتی کے مطابق کین ویکس ایک پُرعزم انسان ہیں اور آج بھی اپنے اردگرد موجود لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔
دنیا کے دو معمر ترین مردوں کا ایک ہی دن پیدا ہونا اور اپنی سالگرہ پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا عمر رسیدگی کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور دلچسپ اتفاق ہے۔





