بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج کے دوران ایک ٹوپی پہنے شخص کی مبینہ طور پر ہندوؤں کے خلاف اشتعال انگیز گفتگو کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملہ زیرِ بحث آگیا۔ صحافی شیام میرا سنگھ نے بھی اس دوران بدسلوکی اور پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کا الزام عائد کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعات دہلی میں الیکشن کمیشن کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پیش آئے، جہاں مختلف مقامات پر مظاہرین، صحافیوں اور پولیس کے درمیان کشیدگی دیکھی گئی۔
ٹوپی پہنے شخص کی ویڈیو کیوں زیرِ بحث آئی؟
ایک رپورٹ کے مطابق شیام میرا سنگھ نے ایسے شخص کی ویڈیو ریکارڈ کی جو گول ٹوپی پہنے ہندوؤں کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا اور اشتعال انگیز گفتگو کر رہا تھا۔ اس واقعے کو بعض حلقوں کی جانب سے مذہبی شناخت کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھانے کی مبینہ کوشش قرار دیا گیا۔
تاہم، مذکورہ شخص کی شناخت اور اس کے مذہب سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ان دعووں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
صحافی شیام میرا سنگھ کے ساتھ کیا ہوا؟
بھارتی میڈیا اور فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ آلٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق شیام میرا سنگھ دہلی کے علاقے کنّاٹ پلیس میں احتجاج کی رپورٹنگ کر رہے تھے، جہاں بعض افراد نے انہیں گھیر لیا اور ان کے ساتھ تلخ کلامی کی۔
شیام میرا سنگھ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس سے تحفظ کی درخواست کی، لیکن اس کے بجائے انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک پولیس اہلکار نے انہیں ڈنڈے سے تین مرتبہ مارا۔
لائیو ہندوستان کی رپورٹ کے مطابق پولیس انہیں کچھ دور لے جانے کے بعد رہا کر چکی تھی۔
دہلی میں صحافیوں کی حفاظت پر سوالات
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب دہلی میں احتجاج کے دوران متعدد صحافیوں کو رپورٹنگ سے روکنے اور حراست میں لیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔ آلٹ نیوز کی 12 اکتوبر 2026 کی رپورٹ میں بھی کئی صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ذکر کیا گیا۔
احتجاج کے دوران کسی بھی مذہبی گروہ کے خلاف نفرت انگیز گفتگو یا کسی صحافی کو اس کے کام سے روکنے کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ واقعے سے متعلق دعووں اور تصدیق شدہ حقائق میں فرق برقرار رکھنا بھی اہم ہے تاکہ غیر مصدقہ معلومات مزید مذہبی کشیدگی کا سبب نہ بنیں۔
مزید خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں
ٹوپی پہن کر خود کو مسلمان دکھانے والا شخص ہندوؤں کیخلاف اشتعال انگیز گفتگو کرتا پکڑا گیا





