تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس وصولی میں مزید اضافہ، دوسری جانب رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے ٹیکس وصولی میں 38 فیصد کمی کا دعویٰ سامنے آگیا۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے حکومت کی ٹیکس پالیسی پر سخت تنقید کردی۔
پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے ملکی معاشی صورتحال اور ٹیکس پالیسی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانے والے انکم ٹیکس میں مزید 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کا بوجھ مجموعی طور پر تین گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکا ہے۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے ٹیکس وصولی میں 38 فیصد کمی کا دعویٰ
سابق وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران اس شعبے سے ٹیکس وصولی میں 38 فیصد کمی ہوئی ہے۔
اسد عمر نے تنخواہ دار طبقے اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق اعداد و شمار کا موازنہ کرتے ہوئے موجودہ ٹیکس پالیسی پر سوالات اٹھائے۔
مڈل کلاس سے متعلق سخت مؤقف
اسد عمر نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں متوسط طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بڑھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیکس نظام نے مڈل کلاس کو شدید متاثر کیا ہے اور حکومت کو ٹیکس وصولی کے طریقہ کار پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصولی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے حاصل ہونے والے محصولات کے بارے میں اسد عمر کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار ان کا مؤقف ہیں؛ ان اعداد و شمار کی مکمل سرکاری تفصیلات یا آزادانہ تصدیق اس وقت واضح طور پر دستیاب نہیں۔
ملکی ٹیکس نظام میں مختلف شعبوں کے حصے اور ٹیکس وصولی کے رجحانات مسلسل بحث کا موضوع رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور محصولات میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔





