صحت

روزمرہ کی یہ عادتیں صحت کے لیے بن سکتی ہیں بڑا مسئلہ، ماہرین نے اہم بات بتا دی

روزمرہ کی یہ عادتیں صحت کے لیے بن سکتی ہیں بڑا مسئلہ، ماہرین نے اہم بات بتا دی
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - روزمرہ کی یہ عادتیں صحت کے لیے بن سکتی ہیں بڑا مسئلہ، ماہرین نے اہم بات بتا دی
یہ بھی پڑھیں: صبح ایک گلاس پانی، فائدہ یا نقصان؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

صحت مند رہنے کے لیے صرف بیماری سے بچنا کافی نہیں بلکہ روزمرہ کی خوراک اور جسمانی سرگرمی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق متوازن اور متنوع غذا صحت کو برقرار رکھنے اور کئی دائمی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق روزانہ کی خوراک میں پھل، سبزیاں، دالیں، ثابت اناج، مناسب پروٹین اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذاؤں کو شامل کرنا بہتر انتخاب ہے، جبکہ بہت زیادہ نمک، اضافی شکر اور غیر صحت بخش چکنائی والی غذاؤں کا استعمال محدود کرنا چاہیے۔ WHO کے مطابق 10 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے روزانہ کم از کم 400 گرام پھل اور سبزیاں استعمال کرنے کا ہدف مفید سمجھا جاتا ہے۔

صرف خوراک ہی نہیں، جسمانی سرگرمی بھی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ WHO کے مطابق 5 سے 17 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کو روزانہ اوسطاً کم از کم 60 منٹ معتدل سے شدید جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے، جبکہ اس سے زیادہ سرگرمی اضافی صحت کے فوائد دے سکتی ہے۔

اس کے علاوہ صحت مند طرزِ زندگی میں مناسب نیند، روزمرہ کی جسمانی سرگرمی، متوازن خوراک اور ایسی عادات سے پرہیز شامل ہے جو صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت بہتر بنانے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان ایک ہی دن میں اپنی تمام عادات تبدیل کردے؛ روزمرہ زندگی میں چھوٹی اور مستقل مثبت تبدیلیاں بھی اہم ثابت ہوسکتی ہیں۔

یاد رکھیں کہ ہر شخص کی غذائی اور طبی ضروریات مختلف ہوسکتی ہیں۔ اگر کسی کو کوئی بیماری، غذائی کمی یا خاص طبی مسئلہ ہو تو اپنی خوراک یا ورزش میں بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا مستند طبی ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔