پاکستان

سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہوسکتا، صدر مملکت کا دوٹوک مؤقف

سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہوسکتا، صدر مملکت کا دوٹوک مؤقف
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہوسکتا، صدر مملکت کا دوٹوک مؤقف
یہ بھی پڑھیں: مکہ معاہدے کا مقصد سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے، دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو ہتھیار یا سیاسی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ بات صدر مملکت نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کے دوران کہی۔ اسی موقع پر ایوانِ صدر میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی جہاں صدر آصف علی زرداری نے انتونیو گوتریس کو پاکستان کے اعلیٰ سول اعزاز ’’نشانِ امتیاز‘‘ سے نوازا۔ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی کابینہ کے ارکان اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل مذاکرات ضروری ہیں جبکہ تمام دیرینہ تنازعات، بالخصوص مسئلہ جموں و کشمیر، کو حل کرنا بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے صدر مملکت نے پاکستان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور معاہدے کے تحت پاکستان کے پانی کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ یہ مؤقف حالیہ بین الاقوامی قانونی پیش رفت کے بعد مزید اہم ہوگیا ہے، کیونکہ 31 اگست 2026 کو کورٹ آف آربیٹریشن نے قرار دیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔

صدر مملکت نے فلسطینی عوام اور ان کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا بھی اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی عالمی امن، مکالمے اور سفارت کاری کے لیے کوششوں کو سراہا۔

افغانستان کے حوالے سے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کی جانب سے مسلسل دہشتگردی کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

انتونیو گوتریس نے پاکستان کی جانب سے نشانِ امتیاز دیے جانے پر شکریہ ادا کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔

صدر مملکت کے حالیہ بیان سے ایک مرتبہ پھر پاکستان کا یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے جیسے اہم بین الاقوامی معاہدوں سے متعلق معاملات کو یکطرفہ اقدامات کے بجائے طے شدہ قانونی اور سفارتی طریقہ کار کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔