پاکستان

مکہ معاہدے کا مقصد سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے، دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج

Ahmad shareef CH
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - مکہ معاہدے کا مقصد سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے، دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا،

اسلام آباد: ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ایک مقصد سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے اور سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں سعودی عرب میں موجود ہیں، اس لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اچانک وجود میں آنے والا اتحاد نہیں ہے۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو طے پایا تھا۔ معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔

معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہےحالیہ علاقائی کشیدگی اور سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات کے تناظر میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون پر مشاورت بھی جاری ہے۔ 6 اکتوبر کو ریاض میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ترجمان پاک فوج کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع سے متعلق اپنے عزم پر قائم ہے، تاہم دفاعی تعاون کی عملی تفصیلات اور کسی ممکنہ کارروائی کی نوعیت سے متعلق تمام معلومات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی ہیں۔