بین الاقوامی

شام حوثیوں کے خلاف یمن میں فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، امریکی میڈیا

شام حوثیوں کے خلاف یمن میں فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، امریکی میڈیا
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - شام حوثیوں کے خلاف یمن میں فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، امریکی میڈیا
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ایران جنگ میں 81 طیاروں کے نقصان کی رپورٹ تسلیم کرلی: عباس عراقچی

شام نے یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی میں سعودی عرب کی حمایت کے لیے اپنی فوجی دستے بھیجنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس (Axios) کو 3 امریکی حکام نے بتایا کہ سعودی عرب اور شام کے درمیان یمن میں حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی میں شامی فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی پر بات چیت جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق شامی صدر احمد الشرع اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ابھی تک اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ معاملے پر سعودی عرب اور شام کے درمیان مذاکرات کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب چاہتا ہے کہ شام اپنے فوجی دستے یمن بھیجے تاکہ حوثیوں کے خلاف لڑنے والی یمنی حکومتی فورسز کو مزید تقویت دی جا سکے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ فورسز حوثیوں کے مقابلے میں کم تربیت یافتہ ہیں۔

یہ معاملہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور شامی صدر احمد الشرع کے درمیان ریاض میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں بھی زیرِ بحث آیا۔ امریکی حکام کے مطابق امریکا اصولی طور پر شامی فوج کی یمن میں ممکنہ تعیناتی کی مخالفت نہیں کر رہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ سے بھی شامی فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کے طریقہ کار کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ شامی فوج کی شمولیت سے سعودی عرب اور شام کے تعلقات مزید مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ حوثیوں کے خلاف کارروائی کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔

یمن میں کتنے شامی فوجی بھیجے جا سکتے ہیں؟

مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے مطابق شام کی جانب سے یمن میں 10 ہزار سے 20 ہزار فوجی بھیجے جانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ ممکنہ طور پر دمشق کے قریب تعینات 90ویں ڈویژن اور جنوبی شام میں السویداء کے قریب موجود 84ویں ڈویژن کے یونٹس کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔

تاہم یہ واضح رہے کہ شامی حکومت نے تاحال فوج بھیجنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔