بین الاقوامی

امریکا نے ایران جنگ میں 81 طیاروں کے نقصان کی رپورٹ تسلیم کرلی: عباس عراقچی

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - امریکا نے ایران جنگ میں 81 طیاروں کے نقصان کی رپورٹ تسلیم کرلی: عباس عراقچی
یہ بھی پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو بھارتی پولیس نے گرفتار کر لیا، وجہ کیا بنی؟

ایران جنگ میں امریکی فوجی طیاروں کے نقصانات سے متعلق کانگریشنل ریسرچ سروس (CRS) کی تازہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

CRS کی 5 اکتوبر 2026 کو اپ ڈیٹ کی گئی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران کم از کم 81 امریکی فوجی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرونز تباہ یا نقصان زدہ ہوئے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تعداد صرف تباہ ہونے والے طیاروں کی نہیں بلکہ نقصان پہنچنے والے طیاروں کو بھی شامل کرتی ہے، جبکہ بعض متاثرہ طیارے دوبارہ سروس میں واپس آ چکے ہیں۔

عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا نے مئی میں ایرانی افواج کے ہاتھوں 42 امریکی فوجی طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کو تسلیم کیا تھا، جبکہ اب رپورٹ میں یہ تعداد 81 تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حقیقی نقصان اس سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق 81 متاثرہ طیاروں میں 45 MQ-9 Reaper ڈرونز، 12 F-15E جنگی طیارے، 7 KC-135 ٹینکرز اور متعدد ہیلی کاپٹرز شامل ہیں۔ CRS کے مطابق اس مجموعے میں دشمن کی کارروائیوں، حادثات، دوستانہ فائر اور دیگر واقعات میں تباہ یا نقصان زدہ ہونے والے طیارے شامل ہیں۔

CRS نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں اور مزید معلومات سامنے آنے کے ساتھ ان میں تبدیلی ممکن ہے۔ رپورٹ میں طیاروں کے نقصانات کی لاگت کے حوالے سے کانگریشنل بجٹ آفس کے 1.9 سے 3.3 ارب ڈالر کے تخمینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

عباس عراقچی نے امریکی فوجی اڈوں کی سیکیورٹی سے متعلق امریکی دعووں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کچھ وقت کے لیے لوگوں کو گمراہ کیا جا سکتا ہے، لیکن ہمیشہ سب لوگوں کو ایسا نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ CRS کی موجودہ رپورٹ میں 81 طیاروں کا مطلب 81 طیارے مکمل طور پر تباہ ہونا نہیں ہے؛ اس میں نقصان زدہ اور بعد میں دوبارہ قابلِ استعمال ہونے والے طیارے بھی شامل ہیں۔