بھارت میں نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو نئی دہلی میں احتجاج سے قبل پولیس نے حراست میں لے لیا۔ جماعت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جمعہ 16 اکتوبر کو ابھیجیت دیپکے نئی دہلی کے علاقے کنّاٹ پلیس میں قومی پرچم لہرانے کے لیے مجوزہ احتجاجی مارچ میں شرکت کرنے والے تھے۔ پولیس نے احتجاج کی اجازت نہ ہونے کے حوالے سے انہیں پہلے ہی نوٹس جاری کیا تھا۔
Abhijeet Dipke Arrested
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق دیپکے نئی دہلی میں ایک رہائش گاہ سے باہر نکل کر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں روک لیا۔ انہوں نے بھارتی قومی پرچم بھی لہرایا، جس کے بعد پولیس انہیں اپنے ساتھ لے گئی۔
دو رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج
کاکروچ جنتا پارٹی نے اس احتجاج کے ذریعے اپنے دو رہنماؤں سورَو داس اور اشوتوش رنکا کی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھانے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل 10 اکتوبر کو ابھیجیت دیپکے اور جماعت کے دو دیگر رہنماؤں کو ممبئی سے آنے والی پرواز کے نئی دہلی پہنچنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ اگلے روز عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم احتجاجی سرگرمیوں کے باعث جماعت اور پولیس کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔
ووٹر فہرستوں میں تبدیلی پر تنازع کیا ہے؟
بھارت میں ووٹر فہرستوں پر نظرِ ثانی کے عمل کے دوران 13 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور احتجاج کرنے والوں کا الزام ہے کہ اس عمل سے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی اپنے عمل میں جانبداری کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے غلط طور پر خارج ہونے والے افراد دوبارہ اندراج کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
یہ تنازع اب صرف ایک سیاسی جماعت کے احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹروں کے حقِ رائے دہی کے حوالے سے بھی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔





