بین الاقوامی

ایلون مسک نے یہ کیوں کہا کہ ’کیا انڈیا کا اصل باس امبانی ہے؟‘

نریندرمودی
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - ایلون مسک نے یہ کیوں کہا کہ ’کیا انڈیا کا اصل باس امبانی ہے؟‘
یہ بھی پڑھیں: یرانی صدر کی ٹرمپ سے ملاقات کے امکانات تقریباً ختم

دنیا کے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک اور بھارت کے بڑے کاروباری گروپ کے سربراہ مکیش امبانی کے حوالے سے ایک تنازع سامنے آیا ہے، جس میں مسک نے سوال اٹھایا کہ کیا بھارت میں اصل طاقت مکیش امبانی کے پاس ہے؟ یہ معاملہ ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے بھارت میں آغاز سے متعلق ہے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ بھارت کی چند بااثر کاروباری شخصیات اسٹار لنک کی انٹرنیٹ سروس کی ملک میں آمد کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد بھارت میں سیاسی اور کاروباری حلقوں میں بحث شروع ہوگئی۔

ایلون مسک نے بعد میں ایک اور پیغام میں سوال اٹھایا کہ کیا بھارت کے اصل باس مکیش امبانی ہیں؟ اس بیان کو بھارت میں کاروباری مفادات اور حکومتی فیصلوں پر بڑے کاروباری گروپوں کے اثر و رسوخ سے متعلق بحث کے تناظر میں دیکھا گیا۔

اس معاملے پر بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ایلون مسک کے پیغام کے جواب میں انہیں بھارت آنے کی دعوت دیتے ہوئے لکھا کہ آپ کو بھارت میں خوش آمدید۔ راہل گاندھی اس سے قبل بھی بھارت میں کاروباری مسابقت اور بڑی کمپنیوں کے اثر و رسوخ سے متعلق سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

اسٹار لنک ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے، جس کا مقصد سیٹلائٹس کے ذریعے ان علاقوں میں بھی انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے جہاں روایتی براڈبینڈ سروس کی رسائی محدود ہے۔ بھارت جیسی بڑی مارکیٹ میں اس سروس کا آغاز کمپنی کے لیے اہم تجارتی موقع سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب مکیش امبانی کا ریلائنس گروپ بھارت کے ٹیلی کمیونیکیشن شعبے میں اہم مقام رکھتا ہے۔ ان کی کمپنی ریلائنس جیو ملک میں موبائل اور انٹرنیٹ خدمات فراہم کرتی ہے، اس لیے اسٹار لنک کی آمد سے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں مسابقت بڑھنے کا امکان ہے۔

ایلون مسک کے الزامات کے بعد بھارتی حکومت نے ان دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ اسٹار لنک سمیت تمام کمپنیوں کے معاملات متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق دیکھے جاتے ہیں۔ تاہم اس تنازع نے بھارت میں بڑی کاروباری کمپنیوں کے اثر و رسوخ، منصفانہ مسابقت اور نئی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں داخلے سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

اس معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ اسٹار لنک کی بھارت میں توسیع صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں بلکہ کاروباری مسابقت اور ریگولیٹری پالیسی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ایلون مسک کے بیان نے اسی بحث کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔