نیویارک: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ امریکا کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے امکانات تقریباً ختم ہوگئے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بارے میں ملے جلے پیغامات کے باوجود ان کی پالیسی میں سخت مؤقف برقرار ہے، جس کے باعث دونوں صدور کی ملاقات کا امکان انتہائی کم ہوگیا ہے۔
اہلکار کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ تجاویز پر یکطرفہ مؤقف اختیار کر رکھا ہے، اس لیے صدر پزشکیان سے ملاقات کے امکانات کو اب تقریباً خارج از امکان سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ممالک دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے اور امن کے عزم کا پیغام دینے کے لیے امریکا کو ثالث کے ذریعے سات نکاتی امن تجاویز بھی بھجوائی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو سات روز میں کھولنے سے متعلق لائحہ عمل بھی پیش کیا ہے، تاہم امریکا کی جانب سے ان تجاویز پر تاحال کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔





