بین الاقوامی

فورٹ ہڈ فوجی اڈے کے حملہ آور کی سزائے موت براہ راست دکھانے کا فیصلہ نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

فورٹ ہڈ فوجی اڈہ حملہ آور کی سزائے موت پر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - فورٹ ہڈ فوجی اڈے کے حملہ آور کی سزائے موت براہ راست دکھانے کا فیصلہ نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ
یہ بھی پڑھیں: نیویارک میں ڈیلیوری ورکرز کے لیے 13 کروڑ ڈالر سے زائد کا معاوضہ پیکج

فورٹ ہڈ فوجی اڈےپر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کے مجرم ندال ملک حسن کی سزائے موت کو براہ راست نشر کرنے کے معاملے پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہ کرنے کا بیان دیا ہے۔ اس معاملے پر امریکی حکوم کے مختلف عہدیداروں کے بیانات سامنے آنے کے بعد سزائے موت کی لائیو نشریات کا موضوع توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہوں نے ندال ملک حسن کی سزائے موت کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس کارروائی کو براہ راست دکھانے کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا۔ اس معاملے میں سزائے موت کی منظوری اور اسے عوام کے سامنے براہ راست نشر کرنے کے فیصلے کو الگ الگ معاملات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ پینٹاگون کی جانب سےفورٹ ہڈ فوجی اڈے سزائے موت کی لائیو نشریات کا انتظام کیا جائے گا یا نہیں۔ وینس نے مزید کہا کہ اگر اس کارروائی کو براہ راست نشر کیا گیا تو وہ اسے نہیں دیکھیں گے۔

اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع، پینٹاگون، کی جانب سےورٹ ہڈ فوجی اڈے کےمجرم ندال ملک حسن کی سزائے موت کو براہ راست نشر کرنے کے منصوبے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سزائے موت کے لیے 3 دسمبر 2026 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ یہ کارروائی ٹیکساس میں واقع فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

ندال ملک حسن کو 2009 میں فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث ہونے پر فوجی عدالت نے سزا سنائی تھی۔ اس واقعے میں 13 افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ امریکی فوجی اڈے پر پیش آنے والے سنگین واقعات میں شمار ہوتا ہے اور اس کے بعد فوجی تنصیبات کی سیکیورٹی اور اہلکاروں کے تحفظ سے متعلق امور پر بھی توجہ دی گئی۔

حسن اس وقت امریکی فوج کے سابق میجر اور ماہرِ نفسیات کے طور پر شناخت کیے جاتے ہیں۔ ان کے مقدمے کی کارروائی فوجی عدالتی نظام کے تحت ہوئی تھی اور 2013 میں انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ اس فیصلے کے بعد ان کا معاملہ امریکی فوجی انصاف کے نظام میں ایک اہم مقدمے کے طور پر زیر بحث رہا ہے۔

حالیہ پیش رفت میں سزائے موت کو براہ راست نشر کرنے کا معاملہ اس خبر کا اہم پہلو بن گیا ہے۔ اس حوالے سے پینٹاگون کے منصوبے اور ٹرمپ کے بیان کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک طرف امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے لائیو نشریات کے منصوبے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جبکہ دوسری طرف ٹرمپ نے اس مخصوص نشریات کے بارے میں حتمی فیصلہ نہ کرنے کی بات کی ہے۔

جے ڈی وینس کے بیان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے پر انتظامیہ کے عہدیداروں کے سامنے تمام تفصیلات واضح نہیں تھیں۔ تاہم، دستیاب بیانات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ لائیو نشریات کا منصوبہ حتمی طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اس واقعے سے متعلق تازہ پیش رفت پر نظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ سزائے موت کی مقررہ تاریخ، قانونی کارروائی اور براہ راست نشریات کے انتظامات میں تبدیلی ممکن ہے۔ فی الحال خبر کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ ٹرمپ نے سزائے موت کی منظوری اور اس کی لائیو نشریات کے معاملے کو الگ رکھا ہے، جبکہ پینٹاگون کے منصوبے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔۔