پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار بلال قریشی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوتگی کے موقع پر مہمانوں کے لیے بھاری بھرکم کھانوں کے اہتمام پر پابندی عائد کی جائے، کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں غم زدہ خاندانوں کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
بلال
اکتوبر 2025 میں اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے اداکار نے اس معاملے پر آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ لوگ پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہیں اور بعض خاندانوں کو کفن اور قبر کے اخراجات بھی ادھار لے کر پورے کرنا پڑتے ہیں۔ ایسے حالات میں فوتگی کے موقع پر کھانے پینے کا انتظام ایک اضافی مالی بوجھ بن سکتا ہے۔
بلال قریشی کے مطابق، موت کے موقع پر سادگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اہل خانہ کو اپنے پیارے کی جدائی کے غم کے ساتھ غیر ضروری اخراجات کی پریشانی بھی برداشت نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی پہلے ہی مہنگی اور مشکل ہو چکی ہے، اس لیے کم از کم ایسے مواقع پر اخراجات کم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
اداکار کے اس مطالبے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض افراد نے ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فوتگی کے موقع پر مہنگے کھانوں اور غیر ضروری رسم و رواج کے بجائے غم زدہ خاندان کی مدد کرنی چاہیے، جبکہ کچھ لوگوں نے کھانے کے انتظام کو معاشرتی روایت قرار دیتے ہوئے مختلف نقطۂ نظر پیش کیا۔
بلال قریشی کا یہ بیان معاشرے میں فوتگی کے موقع پر ہونے والے اخراجات، سماجی دباؤ اور سادگی اختیار کرنے کی ضرورت سے متعلق بحث کو نمایاں کرتا ہے۔ تاہم، ان کا مطالبہ حکومت کی جانب سے پابندی نافذ کیے جانے کا اعلان نہیں ہے۔





