پاکستان

بلاول بھٹو عمران خان جیل سے متعلق بیان، پی ٹی آئی کو انتہا پسندی کی سیاست چھوڑنے کا مشورہ

بلاول بھٹو عمران خان بیان
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - بلاول بھٹو عمران خان جیل سے متعلق بیان، پی ٹی آئی کو انتہا پسندی کی سیاست چھوڑنے کا مشورہ
یہ بھی پڑھیں: اقرار الحسن گرفتار؟ بڑا تہلکہ خیز انکشاف، 5 اہم تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتہا پسندی اور بائیکاٹ کی سیاست نہ چھوڑی تو عمران خان جیل میں رہنےبلاول بھٹو عمران خان جیل سے متعلق بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتہا پسندی اور بائیکاٹ کی سیاست ترک نہ کی تو عمران خان جیل میں رہنے کے حوالے سے آصف علی زرداری کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے اسے اپنے سیاسی رویے میں تبدیلی لانے کا مشورہ دیا۔

بلاول بھٹو زرداری کے مطابق انتہا پسندی اور بائیکاٹ کی سیاست کی وجہ سے تحریک انصاف کے مختلف سیاسی حلقوں کے ساتھ تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو سیاسی مسائل حل کرنے کے لیے بات چیت اور سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تحریک انصاف نے انتہا پسندی کی سیاست نہ چھوڑی تو عمران خان کو طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑ سکتا ہے۔ بلاول بھٹو کے اس بیان میں آصف علی زرداری کی سابقہ قید کا حوالہ بھی دیا گیا، جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں طویل عرصہ جیل میں گزارا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی روایت میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ جو رہنما آج جیل میں ہوتا ہے، وہ مستقبل میں اقتدار میں بھی آ سکتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق تحریک انصاف کو اس سیاسی سفر کے لیے اپنے طرز سیاست میں تبدیلی لانا ہوگی اور انتہا پسندی سے گریز کرنا ہوگا۔

خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ کی سیاست کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت منفی سیاست کے راستے پر چل رہی ہے۔ بلاول کے مطابق کچھ روز قبل وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے تیار تھی، تاہم صوبے میں گورنر راج نافذ کرنا آخری آپشن ہوگا۔

دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جو جماعت یونین کونسل کی نشست حاصل نہیں کر سکتی، وہ صوبے کے قیام کی بات کر رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے مصطفیٰ کمال اور محسن نقوی کو مشورہ دیا کہ وہ سندھ کے مختلف شہروں کا دورہ کریں اور عوام سے پوچھیں کہ آیا وہ الگ صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں۔ ان کے اس بیان میں سندھ کی سیاسی صورتحال اور صوبے کے قیام سے متعلق جاری بحث پر بھی اظہار خیال کیا گیا۔

بلاول بھٹو عمران خان جیل سے متعلق اس بیان کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی، سیاسی مفاہمت اور سندھ میں صوبے کے قیام کی بحث ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔ تاہم سیاسی بیانات اور ان میں کیے گئے دعووں کو متعلقہ رہنماؤں سے منسوب کرکے ہی بیان کرنا چاہیے۔